خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 236 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 236

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۳۶ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء اس کے رنگ میں رنگین ہو جائیں اور وہ ہمارا رب بڑا ہی پیارا ہے۔حسن کا سر چشمہ اور منبع ہے۔محسن بنیادی طور پر اس چیز کو کہتے ہیں کہ کشش اور جذب ہو ، جس چیز میں جذب اور کشش ہو اس کو حسین کہا جاتا ہے۔گلاب کا پھول تر و تازہ جب کھلتا ہے تو وہ انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے اسی طرح ہر حُسن جو خدا تعالیٰ نے اس جہان میں پیدا کیا وہ انسان کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے اور حسن کا سر چشمہ اور منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہر غیر اللہ کا حسن یا نور جو ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کا عطا کردہ ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بھی بیان کیا ہے قرآن کریم میں کہ اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) اور پیار کرنے والا بھی ہے اسی طرح جس طرح چاہتا ہے کہ ہم اس سے پیار کریں۔بڑا پیار کرنے والا ہے۔سب سے زیادہ پیار خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ساری دنیا کو آپ کے لئے بدل دیا اس معنی میں کہ تمام پہلے انبیاء جو تھے علیحدہ علیحدہ ان کی امتیں تھیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں ان کی تعلیموں کا محسن اکٹھا کر دیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور قوتِ احسان میں تمام انبیاء کے حسن و احسان کو اکٹھا کر دیا اور زائد دیا یہ بتانے کے لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لئے یہ کائنات پیدا کی گئی ہے۔لولاك لَمَا خَلَقْتُ الافلاك - اگر الہی منصوبہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہستی کی پیدائش نہ ہوتی تو اس کائنات کو بھی پیدا نہ کیا جاتا۔پس یہ خدا ہمارا پیارا بھی ہے ، ہم سے پیار کرنے والا بھی ہے اور ہمارا مطلوب بھی ہے۔ہم سے پیار کرنے والا ہے اس شرط کے ساتھ کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں ہم اس کی طرف بڑھیں۔جو صراط مستقیم اس نے اپنے تک پہنچنے کے لئے تجویز کی ہے اس صراط مستقیم پر چل کر ہم اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔صرف اس پر ہم تو گل کریں کسی اور پر ہمارا تو گل نہ ہو۔صرف اسی کو ہم زندہ اور زندگی بخش سمجھیں کسی اور سے اپنی زندگی اور بقا کے لئے مانگیں نہیں۔کسی کی احتیاج اپنے دل میں محسوس نہ کریں۔إنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ (هود: ۵۷) اس آیت میں فرمایا کہ جس اللہ پر میں تو گل کر رہا ہوں ، وہ میری ربوبیت بھی کر رہا ہے اور تمہاری ربوبیت کے بھی اس نے سامان پیدا کئے