خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 232 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 232

خطبات ناصر جلد ہشتم سمجھا دیا۔دنیا کی عقل اس طرف آرہی ہے۔۲۳۲ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء اسلام نے یہ نہیں کہا کہ تم عورت کو دکھ دینے کے لئے دوسری شادی کرو۔یہ کہیں قرآن کریم نے اجازت نہیں دی۔اسلام نے تو کہا ہے ضرورت ہو ، حالات کا تقاضا ہو کر و دوسری شادی لیکن عدل کا قائم رکھنا ضروری ہے۔اگر تم سمجھو۔تم سمجھو عدل قائم نہیں رکھ سکو گے تو بالکل نہ کرو دوسری شادی۔دوسری شادی کا ایک دفعہ جب میں پڑھا کرتا تھا آکسفورڈ میں تو ایک سویڈن کا نوجوان طالب علم میرا دوست بن گیا۔میں نے سویڈن کے متعلق بھی کچھ پڑھا ہوا تھا۔میں نے اس کو اسلام کا تعارف کروانے کے لئے تعدد ازدواج کا ہی مسئلہ لیا۔میں نے کہا مجھے یہ بتاؤ تمہارے ملک میں عورت اور مرد کی نسبت کیا ہے۔کہنے لگا ( میں نے پڑھا ہوا تھا وہ۔اس کے منہ سے کہلوانا چاہتا تھا ) کہنے لگا چالیس فیصد مرد اور ساٹھ فیصد عورت۔میں نے کہا تو پھر بیس فیصد عورت وہاں کیا کرتی ہے؟ وہ بڑے ذہین ہوتے ہیں۔کہنے لگا تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔میں نے کہا مذاق نہیں کر رہا۔تمہارا علاج ہے تعدد ازدواج میں۔ورنہ بدمعاشی پھیلے گی تمہارے ملک میں اگر اس طرف نہیں آؤ گے تو۔یہ قوم کا مسئلہ ہے جس کو تعدد ازدواج حل کرتا ہے۔بعض افراد کے مسائل ہیں ان کو حل کرتا ہے۔بہر حال سوال یہ نہیں کہ تعدد ازدواج کی اجازت ہے یا نہیں۔اور جو احکام وہ ہیں۔سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جن شرائط کے ساتھ جو کام کرنے کو کہے ہیں وہ آپ نے کرنے ہیں جن سے روکا ہے ان سے آپ نے رکنا ہے۔اس کے بغیر آپ وہ نمونہ آج دنیا کے سامنے نہیں رکھ سکتے۔جسے دیکھ کے وہ اسلام کی طرف مائل ہوں گے۔قرآن کریم نے کسی ایک جگہ یہ نہیں کہا کہ مسلمان اور غیر مسلم کے دنیوی حقوق مختلف ہیں۔کسی ایک مسئلے میں نہیں۔سینکڑوں جگہ جو روکا ہے مثلاً کہا ہے بدظنی نہ کرو۔کہیں نہیں کہا کہ غیر مسلم کے اوپر بدظنی کر لیا کر و مسلمان پر نہ کرو۔افترانہ کرو، تہمت نہ لگاؤ۔یہ نہیں کہا کہ عیسائی پر تہمت لگا دیا کرو آرام سے اور مسلمان پہ نہ لگاؤ۔سب کے برابر کے حقوق ہیں دنیوی حقوق جتنے ہیں۔اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ااا) کہا ہے۔