خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 219 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 219

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۱۹ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء مل گیا تھا قیصر کے مقابلے میں جانے کا چار پانچ لڑائیاں لڑکی ہیں۔ہر لڑائی میں کسری کی تازہ دم فوج ایک نئے کور کمانڈر کے ماتحت ساٹھ ستر ہزار سے لے کے ایک لاکھ کی تعداد میں آتی تھی اور یہ بیچارے وہی اٹھارہ ہزار کچھ شہید ہو گئے کچھ زخمی ہوگئے۔تھکے ہوئے اور ان کا مقابلہ وہ تو زمانے کی اس قسم کی تو نہیں تھی امریکہ سے بٹن دبایا اور گولہ برساد یا کسی چھ ہزار سات ہزار میل پر۔آمنے سامنے ہو کر لڑنا پڑتا تھا۔فرق تعداد کا اتنا تھا کہ ہر آدھے گھنٹے ، گھنٹے کے بعد اگلی صف لڑنے والی کسری کی پیچھے چلی جاتی تھی اور تازہ دم آگے آجاتی تھی اور مسلمانوں کی ایک ہی صف اور وہ صبح سے لے کے شام تک لڑنے والے اور جیتے چلے جاتے تھے۔کیا چیز جتارہی تھی ان کو؟ دنیا کا کوئی اصول۔دنیوی کوئی اصول تو نہیں ان کو جتا سکتا۔یہ وعدہ تھا ان سے آنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ فوقیت تمہیں حاصل ہوگی۔اِن کُنتُم مُؤْمِنین ایمان کے تقاضے پورے کرتے چلے جاؤ اللہ تعالیٰ کی نعماء سے اپنی جھولیوں کو بھرتے چلے جاؤ۔پھر جس وقت یہ سارا جنگ جو تھی ایران کے خلاف یہ اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھی اس وقت قیصر نے سوچا پھنسا ہوا ہے عرب کا مسلمان۔یہ موقع ہے ان کو پیچھے سے حملہ کر کے اور ان کو مٹا دو۔دو محاذ کھل گئے۔دونوں دنیا کی زبر دست طاقتیں سامنے آگئیں۔اس وقت ان کو حکم ملا تھا کہ روووو آدھی فوج لے کے تم اس محاذ پر چلے جاؤ یعنی وہاں چھوڑ دیئے تھے پیچھے صرف نو ہزار ہی کسری کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے۔لیکن اس وقت سر نہیں گنے جاتے تھے۔اُس وقت تو اِن كُنتُم مؤْمِنين سامنے رکھ کے دلوں کی حالت دیکھی جاتی تھی۔اسی زمانے میں مختصراً میں بیان کر دوں۔حضرت خالد بن ولید نے جنگ سے بھی پہلے خط لکھا پوری رپورٹ تفصیلی لکھی کہ یہ ہوگا۔یہ نقشہ بنے گا۔اس طرح میرے مقابلہ میں تازہ دم فوجیں آئیں گی مجھے کمک بھیجیں۔ہر نیا معرکہ کوئی دو دن بعد۔کوئی تین دن کے بعد ہوا ہے۔مہینوں کے وقفہ کے بعد نہیں ، دنوں کے وقفہ کے بعد ہوئے ہیں۔تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کی کمک بھیج دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آیا ہے وہ کھڑے ہو گئے انہوں نے کہا یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔اتنی تفصیل سے ہمیں رپورٹ دی ہے یہ حالات ہیں اور آپ ایک آدمی