خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 218
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۱۸ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء رض وہ تو اس زمانے کا تو ہر لمحہ اس کی تائید کر رہا ہے کیونکہ آپ کی تربیت میں صحابہ تھے وہ تقاضوں کو پورا کر رہے تھے ایمان کے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیادت کر رہے تھے۔ہر وقت ان کی رہنمائی تھی۔جس وقت انتہائی دکھوں کی زندگی تھی ان دکھوں میں سے کامیاب نکلے۔تیرہ سالہ زندگی کے دکھ اٹھا کے پھر چند سال میں سارے عرب پر غالب آجانا یہ کوئی معمولی معجزہ نہیں ہے۔ایسا معجزہ ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی کہ کسی قوم کو تیرہ سال تک اس طرح پیسا گیا ہو مکی زندگی میں اور آٹھ سال تک حملہ آور ہو کر اس طرح کوشش کی گئی ہو ان کو نیست و نابود کرنے کی اور پھر بیس سالہ اس ظالمانہ کوشش کا نتیجہ۔اسلام کی موت نہیں بلکہ مسلمان کی زندگی کی شکل میں ظاہر ہوا۔پھر ہم صحابہ کا زمانہ لیتے ہیں۔چھوٹی سی قوم ہے۔غیر مہذب ہے۔طاقت ان کے پاس کوئی نہیں۔ہتھیار ان کے پاس اچھا نہیں۔تجربہ کار یہ نہیں ہیں جنگ کے میدان میں اور مال و دولت ان کے پاس نہیں ہے۔ساری دنیا کے خزانے لوٹے ہوئے تھے۔اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ ہمارے جرنیلوں کو تو شاید میں روپے کی ٹوپی ملتی ہوگی پہننے کو اور ان کے کور کمانڈ رایک لاکھ کے ہیرے جڑے ہوتے تھے اس کی ٹوپی میں۔یہ اس کا حکم تھا کہ ایک لاکھ ہیرے اور اس زمانہ میں ایک لا کھ میں جو ہیرا ملتا تھا اب شاید دو کروڑ میں بھی نہ ملے۔ان کو خیال پیدا ہوا کہ ہم مٹادیں گے اور ہوا یہ کہ پہلے اس نے یہ ترکیب کی۔یہ اس کا بڑا زبردست منصو بہ ہے۔عام طور پر ہمارے جو مبلغ ہیں وہ اپنی تقریروں میں اس حصہ کو نہیں لیتے۔یہ جوارتداد کا فتنہ پیدا ہوا ہے عرب میں، یہ سارا منصوبہ ایران کے کورٹ میں یعنی بادشاہ نے خود چھ سو عرب سرداروں کو بلا کے یہ منصوبہ بنایا تھا اسلام کو مٹانے کے لئے۔تو حملہ تو کر دیا اس نے۔جس وقت یہ نا کام ہوا منصو بہ اس کا تو چھیڑ چھاڑ اس نے اور دوسرے طریقے پر کی ہوگی۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالد بن ولید ابھی مدینہ نہیں پہنچے تھے ان کو پیغام بھیجا کہ یہ سرحد میں جو ہیں وہ محفوظ نہیں ہیں۔فتنہ تو شروع ہو گیا تو چلے جاؤ۔جو تمہارے پاس فوج ہے وہ بھی لے کے چلے جاؤ۔اٹھارہ ہزار فوج ان کے پاس۔چار ہزار گھوڑ سوار اور چودہ ہزار پیادہ اور کسری کے مقابلے میں۔انہوں نے پھر بعد میں ان کو حکم