خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 207
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۰۷ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء ملت ایرانیہ کے ایک جیسے افراد ہیں اور یہی ہے اسلامی تعلیم۔اسلام انسان کو کہتا ہے مخاطب اسلام نے انسان کو کیا ہے مسلمان کو نہیں کیا۔ایسے سارے احکام میں مخاطب جو ہیں وہ بنی نوع انسان ہیں اور مسلمان کو یہ کہا ہے کہ یہ حقوق ادا کرنے ہیں ہمسائے کے مثلاً یہ نہیں کہا کہ اگر ہمسایہ مسلمان ہو تو یہ حقوق ادا کرنے ہیں غیر مسلم ہو تو پھر کوئی حق نہیں اس کا یہ نہیں کہا۔تو ہر تعلق جو ہے انسان انسان کے درمیان اس میں امن کی فضا، اخوت کی فضا، جو میں نے اسی واسطے فقرہ شروع میں ادائیگی حقوق کر دیا تھا کیونکہ وہ ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے وہ فضا پیدا کی ہے اسلام کسی کا دشمن نہیں۔اسلام کے دشمن پیدا ہوتے رہے اور اب بھی ہیں اور اسلام کا دشمن یہ بھی کہتا ہے کہ اسلام ہر غیر کا دشمن ہے۔یہ سب سے بڑا ظلم ہے اسلام پر کہ اسلام جود نیا سے فساد کی جڑ کاٹنے والا اور اپنے دشمن کے حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھانے والا یعنی اس شخص کی جو اسلام سے دشمنی رکھتا ہے اور مسلمان سے دشمنی کرتا ہے اس کے جو حقوق خدا تعالیٰ نے بنادیئے فرض کر دیے وہ حقوق جو ہیں اس کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھاتا ہے اسلام اور مسلمان اور جس مذہب نے ہر شے کے حقوق قائم کئے اور ان حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی اور کسی جگہ بھی حقارت کا مظاہرہ نہیں کیا۔غیر انسان سے، غیر ذی روح سے بھی مثلاً یہ بھی حقارت کا ہی ایک نظارہ ہے نا کہ آپ رکابی بھر لیں اور آدھی کھا کے یوں پھینک دیں تو آپ تحقیر کی نظر سے خدا تعالیٰ کے رزق کو دیکھ رہے ہیں۔حالانکہ رزق میں تو نہ جان نہ شعور نہ احساس نہ کچھ نہ کچھ لیکن خدا نے کہا تحقیر کی نظر سے میرے رزق کو بھی نہیں دیکھنا۔خدا نے کہا تحقیر کی نظر سے میرے گدھے کو بھی نہیں دیکھنا اس کو بھی میں نے بنایا ہے تمہاری خدمت کے لئے اس سے خدمت لو۔لیکن یہ کہہ کے کہ یہ گدھا ہے اس واسطے جو جتنا بوجھ وہ اٹھا سکتا ہے اس سے زیادہ ڈالو گے ظالم ہو۔خدا کے نزدیک ظالم ہوٹھہرو گے اور گناہگار ٹھہرو گے اور قابل مؤاخذہ ٹھہرو گے۔تو اسلام بڑا ہی پیارا مذہب ہے۔اللہ مجھے توفیق دے میں مختلف پہلوؤں پر اسی طرح روشنی ڈالوں اور آپ کو بھی توفیق دے اس کے سمجھنے کی۔دشمنی اپنے دل میں کسی کی نہ رکھیں، کسی کی ، نہ انسان کی نہ غیر انسان کی، نہ بت پرست کی نہ مذہب کے ماننے والے کسی کی نہیں۔اسی وجہ