خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 205

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۰۵ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء نے آوازیں دی تھیں کہ کیا تم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو آپ نے فرما یا تھا کچھ نہ بولو۔ان کو رہنے دو اسی شش و پنج میں لیکن جس وقت اُخْلُ هُبل کا اس نے نعرہ لگایا تو آپ نے فرما یا جواب کیوں نہیں دیتے۔تو انہوں نے کہا ہم کیا جواب دیں۔آپ نے فرمایا تم یہ جواب دو الله اعلى وَاَجَل۔یہ نہیں کہا کہ یہ جواب دو کہ تمہارے بت جو ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہیں تمہارے بت ایسے اور ویسے ہیں یہ بالکل نہیں کہا یعنی اس حالت میں بھی امن کے مذہب نے امن کو قائم رکھا ہے اور اُغلُ هُبل کا جواب جو ہے وہ اللهُ اغلى وَاجَل دینا اور اس کے علاوہ ایک لفظ بھی ان کے متعلق کچھ نہ کہنا یہ ایک عظیم معجزہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا۔پھر اس نے جو نعرہ لگا یا وہ ہے عڑی کا نعرہ لگایا اس نے لَنَا الْعُزّى وَلَا عُزّى لَكُمْ ایک اور بول کہ ہمارا ہمارے ساتھ ہماری مدد کرنے والا تو عربی ایک اور بت ہے اور تم تو بت پرستی ہی نہیں کرتے تمہیں تو اس کی مدد نہیں ملتی۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عربی کے خلاف بھی ایک لفظ کہنے کو نہیں کہا بلکہ کہا یہ جواب دو اللهُ مَوْلَنَا وَلَا مَوْلَالَكُمْ خدا ہما را آقا اور ہمارا مددگار ہے اور تم نے بت پرستی کے نتیجہ میں خدا کی مدد سے محرومی کی راہوں کو اختیار کر لیا ہے۔تمہارا ، اللہ تمہارا مولا نہیں رہا تمہارے اعمال کے نتیجہ میں۔تو ان حالات میں یہ ظلم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہوئے کہ، جنگ میں شہید ہو جاتے ہیں وہ تو ٹھیک ہے لیکن شہداء کے ناک اور کان کاٹے گئے ان کے ہار بنائے گئے اور بڑے فخر کے ساتھ ان ہاروں کو گلے میں پہنا دشمن کی عورتوں نے اور خوشیاں منائیں اور آپ کے چچا اور رضاعی بھائی اور ایک نہایت مخلص فدائی اسلام کا جس نے اسی میدان میں جان دی تھی اس کا جگر نکال کے کچے کو چبا گئی سردار کی بیوی۔یہ سارا کچھ دیکھا لیکن لَا تَسُبُوا الذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ (الانعام : ۱۰۹) پر عمل کرتے ہوئے آپ نے تو ایک نمونہ دکھانا تھا ناد نیا کو کہ جو ہم کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھاتے ہیں محض لفاظی نہیں ہے۔تو اُخْلُ هُبل کے مقابلے میں الله اغلى وَاجَل کا نعرہ لگانا اور ھبل کو نظر انداز کر دینا گویا کہ وہ اس کا وجود ہی کوئی نہیں وہ ایگزسٹ (Exist) ہی نہیں کرتا۔بڑی شان ہے۔میں ( نے ) تو بڑا سو چا مجھے بڑا ہی لطف آیا۔میں آپ کو بھی اس لطف میں شامل کرنا چاہتا ہوں اور بڑا سبق ہے اس میں۔