خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 204 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 204

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۰۴ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء ساتھی دشمن کے مقابلے میں اور آپ پر ہی حملہ زوروں سے ہورہا تھا۔تو ایک دشمن اتنا قریب آیا کہ اس نے وار کیا آپ پر۔ایک صحابی نے اس وار کو روکا اور اس کا ہاتھ کٹ گیا۔وار کمزور ہو گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی زرہ پہنی ہوئی تھیں لیکن اتنا زور کا تھا وہ وار کہ پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چکرائے اور گر گئے اور وہ سمجھا کہ شاید میں نے آپ کو شہید کر دیا ہے۔اس نے نعرہ مارا اور واپس چلا گیا اور آپ کے گرد تو صحابہ تھے ہی بہت کم ، ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔یہ آواز جب ان کے پاس پہنچی تو اور بھی وہ دل برداشتہ ہوئے اور یہ جو بتوں کے پجاری اور پجار نہیں تھیں ، عورتیں بھی تھیں ان کے ساتھ ابوسفیان کی بیوی ہند اور عکرمہ کی بیوی اور خالد کی بیوی اور عمرو بن عاص کی بیوی اور بڑے بڑے سرداروں کی بیویاں۔بت پرستی کا زمانہ ان کے لئے سخت ظالم ، کوئی شرافت اور انسانیت نہیں ان میں۔ان کی ایک بڑی ظالمانہ رسم تھی مثلہ کرنا یعنی عورتیں شہداء کے کان اور ناک کاٹ کے ان کا ہار بنا کے گلے میں پہنتی تھیں۔تو مسلمان شہداء کے کان ناک کاٹے اور ان کے ہار بنا کے پہنے اور ہندہ جوسر دارلشکر رو سائے مکہ جو تھے اس وقت ابوسفیان ، ان کی بیوی ، انہوں نے ، حضرت حمزہ بھی شہید ہوئے تھے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے پیارے چچا بھی تھے اور بڑے پیارے رضاعی بھائی بھی تھے اور دوست بھی تھے ان کا پیٹ چیر کے اور ان کا جگر نکال کے اور اس کچے کو چبا گئی غصے میں اپنے۔اس حالت میں کہ ستر صحابہ شہید پڑے ہیں، ان میں سے بہتوں ساروں کے تو نہیں بہتوں کے ناک اور کان کاٹ لئے گئے ہیں۔عورتوں نے ان کے ہار بنا کے پہنے اور خوشیاں منارہی ہیں وہ اس وقت حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کر کے اور ان کا جگر نکال کے اور ہند جو ہے وہ کچا چبا گئی۔اس حالت میں پھر وہ جب ان کو پتا لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو خوشیاں تو ان کی ویسے ختم ہو گئیں لیکن ابھی یقین نہیں آرہا تھا تو یہ سارا دیکھ کے ابوسفیان نے نعرہ یہ لگا یا اُخْلُ هُبل ایک بہت بڑا بت خانہ کعبہ کے اندر تھا ان بت پرستوں کا کہ اس کی بزرگی قائم ہو یعنی بڑا جس طرح ہم جوش میں آ کے اللہ اکبر کہتے ہیں نا تو ان کا یہ نعرہ تھا اُعُلُ ھبل۔اس سے پہلے اس