خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 203

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۰۳ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء کی صداقت کا بھی کہ آپ نے پیٹھ کی طرف رکھا احد کی پہاڑیوں کو اور اپنی سامنے کی طرف رکھا مدینہ کو اور وہاں جاکے آپ صف آراء ہوئے اور جنگ شروع ہو گئی۔اس جنگ کی تفصیل میں میں نہیں جاتا اس کا جو خا تمہ ہے اس میں مجھے زیادہ دلچسپی ہے آج کے مضمون کے لئے۔سخت بڑی سخت جنگ تھی۔انہوں نے بدر کے مقتول عزیزوں، رشتے داروں کے بدلے لینے تھے بڑے غصہ میں تھے وہ اور مقابلہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے اور اسلام کی خاطر اور خدا کی وحدانیت کے لئے اس کے پیار میں لڑنے والے تو اس بہادری سے لڑتے ہیں کہ الفاظ ان کی بہادری کو بیان نہیں کر سکتے۔بہر حال بڑی گھمسان کی جنگ ہوئی سات سو کی تیس سو کے ساتھ اور لمبا عرصہ دن کا پہلے شروع میں پتا نہیں لگ رہا تھا کہ اس میں کونسا پلہ بھاری رہتا ہے کون جیتتا ہے کون ہے یعنی ظاہری حالات کے لحاظ سے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے اور منتشر ہو گئے اور وہاں سے بھاگ گئے۔پچھلی طرف میں نے بتایا اُحد کی پہاڑیاں تھیں وہاں ایک تھا درہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیرانداز وہاں بھجوا دیئے تھے صبح اور آپ نے کہا تھا اس درے کو نہیں چھوڑ نا خواہ ہمیں فتح ہو خواہ ہمیں شکست تم نے اس جگہ کو نہیں چھوڑنا۔لیکن اس واضح حکم کے باوجود انہوں نے چھوڑ دیا سوائے چھ کے ان میں سے یعنی ان کے سردار اور پانچ ان کے ساتھی اور درہ خالی ہو گیا اور خالد بن ولید اور عکرمہ دنیوی لحاظ سے بڑی تیز جنگی آنکھ تھی ان کی۔انہوں نے دیکھا کہ وہ درہ خالی ہے پیچھے سے حملہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے چکر کاٹا اپنے گھوڑوں کے ساتھ اور پیچھے سے آکے حملہ آور ہو گئے مسلمانوں پر جو اس وقت صف آرا بھی نہیں تھے کیونکہ جنگ تو ختم ہو چکی تھی۔ادھر ادھر بٹ کے کوئی بیٹھا ہوگا کوئی ستا رہا ہوگا کوئی باتیں کر رہا ہوگا۔بہر حال وہ جنگ لڑنے کی جو ترتیب ہوتی ہے صف آرائی ہوتی ہے وہ نہیں تھی اور پیچھے سے عکرمہ بھی آملے۔انہوں نے تو وہ وہاں قیامت ڈھادی پھر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی کے نتیجے میں یہ واقعہ ہو گیا۔ستر مسلمان شہید ہو گئے اور اس سے بھی بڑا واقعہ یہ ہو گیا کہ بار بار حملہ کر رہے تھے۔میں نے بتایا ہے نا بکھر گئے تھے مسلمان۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بعض دفعہ صرف دورہ جاتے تھے