خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 190 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 190

خطبات ناصر جلد ہشتم ١٩٠ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء لگی۔پھر اس نے کاٹ دی۔میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔پھر اس نے دوبارہ ضرب لگائی پھر وہ مسکرایا۔اس نے منہ اٹھا کے مجھے دیکھا۔کہنے لگا دنیا کی تو اتنی آبادی نہیں ہے۔میں نے اسے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اتنی تعداد میں مسلمان ہو جائیں گے۔میں تمہیں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب ایک شخص نوے سال میں کروڑ بن گیا تو اس کروڑ میں سے ہر ایک کروڑ بن سکتا ہے، غیر ممکن نہیں ہے یہ اور اس سے میں یہ استدلال کرنا اور یہ بات تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ جو دعویٰ ہے کہ اکثریت بنی نوع انسان کی اسلام میں داخل ہو چکی ہوگی اگلی صدی میں اور یہ جو میں آپ کو بار بار کہتا ہوں اگلی صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے، ایک سو ایک سو دس سال کے اندر بھاری اکثریت انسانوں کی اسلام میں داخل ہو چکی ہوگی ، یہ بغیر دلیل کے محض ایک مبالغہ آمیز بیان نہیں ہے۔اس کے پیچھے ایک بڑی زبردست دلیل ہے اور وہ دلیل ہے ایک شخص کا ایک کروڑ ہو جا نانوے سال کے اندر۔اس دلیل نے اتنا اثر کیا کہ وہاں جو نمائندے بیٹھے ہوئے تھے پریس کے انہوں نے اور خاص طور پر اس شخص جس نے ضر میں لگائی ہوئی تھیں، اپنی زبان میں کہا۔انہوں نے کمپیوٹر کی زبان میں ہمیں سمجھایا ہے کہ اسلام غالب آ جائے گا۔آپ کو میں یہ بات سمجھا رہا ہوں کہ ان لوگوں کے دلوں میں ایک یقین تھا، وہ اندھے نہیں تھے ، وہ بیوقوف نہیں تھے، بڑے صاحب فراست تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد اکٹھے ہو گئے تھے اور آپ کی تربیت میں آگئے تھے۔یہ وہ جانتے تھے کہ جو اس وقت وہ کھڑے ہو کر اس طرح نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے جس طرح آج ہم یہاں جمع ہو گئے ہیں۔چھپ چھپ کے نمازیں پڑھ رہے تھے لیکن ان کو یہ پتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور جو باتیں یہ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ واقع ہیں خدا نے کہی ہیں اور خدا بڑی طاقتوں والا ہے اور جو وہ کہتا ہے وہ ہو گا۔یعنی کوئی ظاہری صورت نہیں ہے ان باتوں کے ہونے کی لیکن خدا کہتا ہے اس واسطے ہو جائیں گی اور پھر ان کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی اور ابھی آٹھ سال نہیں گزرے تھے ہجرت کو کہ وہی رؤسائے مکہ جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم اسلام کو دنیا سے مٹادیں گے، شعب ابی طالب میں اڑھائی سال کے قریب بھوکا مارنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ