خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 171
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبہ جمعہ ۱/۲۷ پریل ۱۹۷۹ء گذارنے والے انسان نے سوچا کہ میں اپنی عمر میں ۳۰ سال ۵۰ سال ۸۰ سال ۱۰۰ سال میں کتنی نیکیاں کرلوں گا کہ وہ مجھے ابدی جنت کی مستحق بنادیں۔اس نے سوچا میں اتنی نیکیاں تو نہیں کرسکتا خدا نے کہا گھبراؤ نہیں تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا ( قرآن کریم میں کھل کے یہ بات بیان ہوئی ہے لیکن ابدی جنت کے پھر بھی تم وارث نہیں ہو سکتے اسلئے میں اس سے بڑھ کے اور بھی دونگا۔تاکہ تم ابدی جنتوں کے وارث ہوسکو۔ہمارا خدا جو ہے وہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اسی پر پورا بھروسہ اور کامل تو کل رکھیں۔ہمارا خدا ہم سے مطالبہ یہ کرتا ہے کہ ہم کسی کی خشیت اپنے دل میں پیدا نہ کریں سوائے اس کے۔فلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَونى (البقرہ:۱۵۱) کا اعلان کیا قرآن کریم نے۔ہمارا خدا ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے رنگ میں رنگین ہو کر جس طرح اس نے اپنی مخلوق کی بھلائی کے لئے بے شمار چیزیں پیدا کر دیں اسی طرح تم اس کی مخلوق کی بھلائی کے لئے اپنی زندگی کا ہر لحظہ وقف رکھو اور کسی کو دکھ نہ پہنچاؤ اور بنی نوع انسان کے ہمدرد اور غمخوار بنو۔ہمارا خدا ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ شرک بالکل نہیں کرنا قبر پرستی بالکل نہیں کرنی انسانوں کو خدا بالکل نہیں بنانا۔سارے انسانوں کو ایک مقام پہ لا کے کھڑا کر دیا۔اس لعنت سے محفوظ کرنے کے لئے کہ قبر پرستی نہ کہیں آجائے امتِ مسلمہ میں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں یہ فرمایا کہ جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِد اساری کی ساری زمین میرے لئے مسجد بنائی گئی ہے وہاں یہ بھی فرمایا کہ دو جگہیں ہیں جہاں تم نے خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرنی، خدائے واحد و یگانہ کی عبادت بھی دو جگہ نہیں کرنی۔ایک لیٹرین میں جہاں تم گند کرتے ہو اور دوسرے قبرستان میں۔ان جگہوں میں خدا کی عبادت بھی نہیں کرنی تا کہ شرک کے خیالات ، وساوس سے تمہیں محفوظ رکھا جائے اور کوئی دوسرا بدظنی کرتے ہوئے تمہیں مشرک نہ سمجھنے لگ جائے۔بدظنی کے مواقع سے دوسروں کو بھی بچالیا۔ہمارا خدا عظیم خدا ہے دعاؤں کو وہ قبول کرتا ہے۔وہ پیار کرتا ہے اگر اس کے پیار کے حصول