خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 170
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۷۰ خطبہ جمعہ ۱۷۲۷ پریل ۱۹۷۹ء کارخانہ ہے جو پانی کو کنٹرول کر رہا ہے۔ہمارے جسم میں شکر ہے۔شکر جو ہے وہ جسم کے لئے ضروری حصہ ہے۔ہمارے جسم میں ایک کارخانہ ایسا لگا ہوا ہے کہ جو Starch کو کاربوہائیڈریٹس کو شکر میں، میٹھے میں تبدیل کرتا ہے اور پھر اس سے وہ جسمانی طاقت کے سامان پیدا کرتا ہے بہت بڑا کارخانہ ہے اور ایسے شعبے میں اس کارخانے میں کہ جس دن آپ، (ایک صحت مند انسان ) دو چھٹانک میٹھا کھا ئیں تو جسم میں وہ شعبہ جو ہے وہ دو چھٹانک میٹھا ہضم کرنے کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ایسے کیمیاوی اجزاء پیدا کرتا ہے کہ دو چھٹانک میٹھا ہضم ہو جاتا ہے اور اگر کسی دن کو ئی شخص نالائقی کرے اور دوست کے ہاں گیا ہے اور گرمی کے دن ہیں اور اس کے دوست نے آئس کریم بنائی ہے اور وہ لذیذ ہے بہت ، وہ دوست کے وہاں بیٹھ کے دوسیر آئس کریم کھا جائے یا زردہ یا فرنی زیادہ کھا جائے یا شربت پی جائے گرمی میں بہت زیادہ۔تو یہ جو شعبہ ہے یہ اسی کے مطابق کیمیاوی اجزاء پیدا کر دیتا ہے اور انسان بیمار نہیں ہوتا بلکہ ایک دن میں اس شعبہ نے دو چھٹانک شعبہ میٹھے کو ہضم کرنے کا انتظام کیا (جو Sugar Matabolism کا ایک حصہ ہے ) اور دوسرے دن اس نے آدھ سیر میٹھا ہضم کرنے کا سامان پیدا کر دیا اسی طرح ہم پروٹین، لحمیات کھاتے ہیں اور اس کی بہت سی قسمیں ہیں اور بہت سے Enzyme ہیں جو مختلف قسم کی لحمیات اور معد نیات کو ہضم کر رہے ہیں یعنی جتنا اندر اور گہرے چلے جاؤ ایک کے بعد دوسری چیز ہمیں نظر آتی ہے۔اتنا بڑا نظام کہ ساری دنیا ایک طرف اور ایک انسان کے جسم کا نظام اس کے مقابلے میں دوسری طرف اور یہ سارا آزاد نہیں، یہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کام کر رہا ہے۔آزادی انسان کو صرف اس دائرہ کے اندر دی گئی ہے کہ جس دائرہ میں جو اعمال کئے جاتے ہیں انکے اوپر جزاء یا سزا کا سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے بدلے میں نعماء نازل کرے گا یا اس کے بدلے میں خدا تعالیٰ کی قہری بجلی نازل ہوگی ایک بد بخت انسان پر اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہے۔اگر وہ نہ چاہتا تو کوئی انسان زبردستی آزادی خدا عز وجل سے چھین نہیں سکتا تھا۔جزاء کا نظام اس نے روحانی زندگی میں مقرر کیا لیکن کیا، ایک محدود زندگی