خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 152 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 152

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۵۲ خطبه جمعه ۱۷۲۰ پریل ۱۹۷۹ء ہے۔میں بے ثبوت نہیں آیا۔میں ثبوت لے کر اپنے رب کی طرف سے آیا ہوں اور تم پھر بھی تکذیب کر رہے ہو۔جس عذاب کو تم جلدی مانگتے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں۔حکم صادر کرنا خدا تعالیٰ ہی کا منصب ہے۔وہی حق کو کھولے گا اور خَيْرُ الْفَصِلِينَ ہے وہ اور ہمارے درمیان بہترین فیصلہ کرے گا“۔سورۃ الانعام کی آیت ۱۰۵ کا ترجمہ یہ ہے۔” خدا نے میری رسالت کی صداقت پر روشن نشان تمہیں دیئے ہیں۔تمہاری آنکھیں ان بصائر کو دیکھ کر کھل جانی چاہئیں تھیں مگر یہ نہیں ہوا بلکہ ایک گروہ وہ ہے جس نے شناخت کیا اور ایک وہ ہے جس نے شناخت کرنے سے انکار کیا۔فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِه پس جو ان کو شناخت کرے اس نے اپنے ہی نفس کو فائدہ پہنچایا اور جو اندھا ہو جائے اور روشن 66 دلائل کو نہ دیکھے اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔میں تو تم پر نگہبان اور محافظ نہیں۔“ سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۰ کا ترجمہ یہ ہے۔یہ لوگ سارے نشانات کو دیکھنے اور ان کی تکذیب کرنے اور ان کو جھٹلا دینے کے بعد بھی سخت قسمیں کھاتے ہیں اَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ کہ اگر کوئی نشان دیکھیں تو ضرور ایمان لے آئیں گے۔کہہ دو نشان تو اللہ کے پاس ہیں۔جس نشان کو چاہتا ہے اسی نشان کو ظاہر کرتا ہے۔اقتراح کے نشان کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے یعنی یہ کہنا کہ یہ فلاں نشان ہمیں دکھایا جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہی دوسری جگہ آیا ہے کہ کافروں نے کہا ہمیں یہ نشان دکھاؤ، یہ نشان دکھاؤ، یہ نشان دکھاؤ تو ان کو یہی جواب دیا گیا کہ نشان دکھانا اللہ کا کام ہے رسول کا کام نہیں۔نشان کے دیکھنے میں اپنی مرضی نہیں چلے گی خدا کی مرضی چلے گی۔جو نشان وہ چاہے گا وہ دکھلائے گا جو نشان وہ نہیں چاہے گا وہ نہیں دکھلائے گا۔“ ان آیات پر غور کرنے سے بہت سی چیزیں سامنے آتی ہیں، میں نے ہمیں باتیں نوٹ کی ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہیں۔