خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 149

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۴۹ خطبه جمعه ۱۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء نہیں ہے۔تو اِنَّمَا يَكْسِبُه عَلى نَفْسِہ ہر گناہ جو ہے اس کا اصل وار جو ہے انسان کے، گناہگار کے اپنے نفس کے اوپر ہے اور ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہر حکم جو دیا گیا وہ علیم وحکیم کی طرف سے دیا گیا ہے جو جانتا تھا کہ تمہارے فائدے کے لئے تم پہ حُسن چڑھانے کے لئے تمہیں منور کرنے کے لئے تمہیں پاکیزہ اور مطہر بنانے کے لئے کن چیزوں کی ضرورت تھی اس کے مطابق تمہیں ہدایت اور شریعت دی گئی، اس کے مطابق تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ایک اُسوہ دیا گیا اور تیسرے یہ کہ سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ انسان گناہ کرے اور تہمت دوسرے پہ لگا دے اس کو ، اپنی زیادہ فکر کرنی چاہیے۔ہر ایک کو ہی تو بہ اور استغفار کا جو دروازہ کھلا چھوڑا ہے خدا تعالیٰ خدائے غفور رحیم نے ، گناہ ہوتے (ہی) خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور ہمیں اس طرح صاف اور ستھرا اور سفید کر دے اس سے بھی زیادہ جتنا ایک دھوبی کپڑے کو پتھروں پہ مار مار کے شفاف پانی میں، آج کل کے بعض گندے پانیوں میں بھی دھوبی دھو دیتے ہیں، شفاف پانی میں جو پہاڑی نالوں کا میٹھا شفاف پانی ہے اس کے اندر ایسے اجزا ہیں جو گند کو نکالنے والے ہیں کوئی گند باقی نہ رہے تا کہ وہ جو نو ر ہے ہماری ہلکی سی روشنی کو وہ پسند کرے اس کے نور کے مقابلے میں تو کچھ نہیں لیکن بہر حال اس سے مشابہت حاصل کرنے کی اس کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کی گئی اور ہمیں وہ پاک بنے کی اور مطہر بننے کی توفیق عطا کرے تا کہ ہمارا اس کے ساتھ ایک زندہ تعلق پیدا ہو جائے تاکہ ہم اسی زندگی میں اس کے پیار کی آواز سننے والے ہوں تا کہ ہماری ساری خوشیاں اس آواز پر بنیادرکھنے والی ہوں کہ وہ ہمیں کہتا ہے کہ تم فکر نہ کرو تم گھبراؤ نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں۔پھر اس کے بعد کسی اور چیز کی انسان کو ضرورت نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ فضل کرے۔( از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )