خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 135

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۳۵ خطبہ جمعہ ۶ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء اور ہمیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے آدمی بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے سوچا کہ آدھا گھر میں چھوڑ جاؤ آدھا لے جاؤ۔کسی نے بہت کسی نے کم لیکن وہ نوافل کی دوڑ تھی۔وہ فرائض کے بعد شروع ہوتی ہے تو یہ ایک ہمیں نظر آتی ہے۔میں نے غور کیا کہ ایک بڑی عظیم سہولت مسلمان کو دی گئی ہے کہ اس کی عبادات کو اور اس کے ادائیگی حقوق انسانی کو یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں فرض اور نفل دو علیحدہ علیحدہ بنیادی قسم کی ہر میدان میں ، ہر میدان قربانی میں علیحدہ علیحدہ حقوق کی ادائیگی کی شکلیں بنا دیں۔ایک پاس ہونے کے لئے ، ایک اگر مقبول ہوجائیں ویسے نہیں ، اگر مقبول ہو جائیں فرائض تو جنت کے دروازے کھل گئے لیکن جنت میں بھی رفعتیں ہیں۔جنت میں بھی بلند مقام ہیں۔جنت میں بھی خدا کے پیار پیار میں فرق ہے۔جنت میں بھی یہ سمجھنا کہ جو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو خدا کا پیار ملے گا ہر ایک کو ویسا ملے گا یہ تو ہماری عقل نہیں مان سکتی لیکن جنت میں ہر وقت دروازہ کھلا ہے ان رفعتوں کے حصول کا۔جنت میں رفعتوں کے حصول کا دروازہ کھلا ہے اس دنیائے ابتلا اور امتحان میں نوافل کی ادائیگی کے ساتھ اور وہاں خدا تعالیٰ نے احادیث میں آتا ہے کچھ اور اصول بنائے ہیں وہ اس وقت میرے زیر بحث نہیں۔تیسری سہولت ہمیں بنیادی سہولت جو ہر ہمارے عمل سے تعلق رکھتی ہے، وہ توازن کے اصول سے ہمیں سہولت عطا کی ہے یعنی ایک طرف پورا جھک جانا اور اس طاقت کو قریباً توڑ دینا یا توڑ دینا اور دوسروں کو نظر انداز کر دینا اس کی اجازت نہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ حقوق العباد کو بھول کر چوبیس گھنٹے حقوق اللہ کو ادا کرتے رہو یا حقوق اللہ کے ان حصوں کو جن میں ذکر الہی ہے مثلاً گناہگار بن جاتا ہے آدمی ، تو توازن کے اصول کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادا ئیگی میں قائم کر کے ایک نہایت حسین سہولت اور آسانی انسان کے لئے پیدا کی۔میں نوجوان اور بچوں کو سمجھانے کے لئے اس توازن کی سہولت کو واضح کرنے کے لئے کھانے کی مثال لیتا ہوں۔کھانے میں بھی اصول توازن قائم کیا گیا ہے۔جو ہم کھانا کھاتے ہیں اے میرے بچو اور نوجوانو! وہ ایک قسم کا نہیں بلکہ جو کھانے کی تحقیق کی گئی ہے اس میں نشاستہ ہے، لحمیات ہیں، کاربو ہائیڈریٹس ہیں جن کو ہم پروٹینز کہتے ہیں، اور ان میں پھر نشاستہ بھی کئی قسم کا ہے اور پروٹینز