خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 134
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۳۴ خطبہ جمعہ ۶ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء کہ افطاری سے لے کر سحری کھانے تک ساری رات بیٹھ کے باتیں بھی کرتے تھے اور ساری رات کھاتے رہتے تھے اور سحری کا جب وقت ہوتا تھا سحری کھاتے تھے اور ان کا روزہ شروع ہو جا تا تھا پھر افطاری تک سورج غروب ہونے تک وہ روزہ دار تھے۔تو کتنی آسانی پیدا کی۔حج ہے۔ساری عمر میں ایک حج فرض اور اس کی بھی بہت سی شرائط اور بنیادی ارکان اسلام میں سے ہے۔تو بڑی سہولت اور آسانی پیدا کی لیکن جن کو خدا تعالیٰ توفیق عطا کرے اگر وہ ہر سال حج کر سکتے ہوں دوسروں کا حق مارے بغیر کیونکہ اب کو ٹاسٹم بن گیا ہے اس لئے یہ فقرہ بولا ہے تو ہر سال حج کریں لیکن فرض حج جو ہے وہ ایک ہے باقی نفلی حج ہوں گے اور سارا سال عمرہ کرتے رہیں۔میں نے ایک جگہ کتاب میں پڑھا کہ جدہ میں رہنے والے بہت سے لوگ روزانہ ہی شام کو مثلاً دکاندار ہے تو دکان بند کر کے مکہ مکرمہ چلے جاتے ہیں اور عمرہ کر کے آجاتے ہیں تو وہ نوافل ہیں۔زکوۃ ہے۔نصاب کے ماتحت دینی ہے جو صاحب نصاب ہے وہی دے گا لیکن جو مال کے خرچ کرنے کے نوافل ہیں وہ یہ ہیں کہ دنیا میں اگر ایک شخص مالی تنگی میں ہے تو امت مسلمہ اس کی ذمہ دار ہے۔وفي أمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ الذّاریات: ۲۰) جب تک ایک سائل اور ایک محروم بھی ہے، ساری اُمت مسلمہ کا فرض ہے کہ اس کی ضرورت کو اس کی حاجت کو پورا کرے اور اس کی تکلیف کو رفع کرے۔وہ نوافل میں آتا ہے لیکن صاحب نصاب، نصاب دیتا ہے اور مالی قربانی کا جو فرض ہے وہ پورا کرتا اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتا ہے۔جنت کا دروازہ جو زکوۃ نے کھولنا تھا وہ اس کے لئے کھول دیا گیا۔جنت میں جو رفعتوں کے مقامات وہ حاصل کر سکتا ہے مالی قربانیوں کے نتیجہ میں وہ جتنا کر سکتا ہے ، کرے۔اس میں ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نظر آتے ہیں کہ ایک وقت میں اسلام کو مال کی ضرورت پڑی تو گھر سے ہر چیز اُٹھا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دی۔آپ نے پوچھا گھر میں کچھ چھوڑ کے آئے ہو تو انہوں نے کہا خدا اور اس کے رسول کا نام چھوڑ کے آیا ہوں۔اس کے علاوہ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں