خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 133
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۳۳ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۹ء ہیں ، انہیں مغفرت کی چادر میں ڈھانپ دوں اور تمہارے اعمال کو قبول کروں اور تم سے میں پیار کرنے لگوں۔دوسری تخفیف جو ہے جو آسانی پیدا کی گئی ہے، وہ اسلام نے بڑے حسین پیرا یہ میں اور بڑے عظیم طریق پر فرائض اور نوافل، عبادات کو اور حقوق کی ادائیگی کو ان دوحصوں میں منقسم کر کے پیدا کی ہے۔فرائض انسان پر نیکیوں کا کم سے کم بوجھ ڈالتے ہیں اتنی آسانی سے اس کے نتیجہ میں کہ انسان جب خدا تعالیٰ کے فضلوں پر غور کرتا اور اس کے پیار کو دیکھتا ہے تو دنگ رہ جاتا ہے۔نماز۔دن میں پانچ دفعہ دو، چار، چار، تین، چار رکعتیں پڑھنی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باہر سے ، دیہاتی علاقے سے مسلمان آئے اور انہوں نے کہا کہ کیا ہیں اسلام کے ارکان ، نماز کے متعلق یہ فرائض آپ نے سارے فرائض بتائے۔اس نے کہا میں فرائض پورے کروں گا اس سے زائد کچھ نہیں کروں گا۔تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ اپنی بات پر قائم رہا اور خدا تعالیٰ نے اس کی اسے توفیق بھی دی تو دَخَلَ الْجَنَّةَ خدا اسے جنت میں بھیج دے گا۔تو جنت میں داخل ہونے کے لئے فرائض ہمارے لئے رکھے۔جنت میں داخل ہو کر جنت میں جو ارفع مقامات ہیں ، مقامات محمودہ ان کے حصول کے لئے نوافل رکھ دیئے اور اس طرح اُمت مسلمہ کے لئے آسانی پیدا کر دی کیونکہ ہر شخص جو ہے نہ اس میں اتنی طاقت ہے نہ اس میں اتنا جذبہ ہے۔ہر ایک کو کہا کہ کم از کم لے لو، کر لو تو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لو گے۔۔روزے ہیں۔بارہ مہینے میں سے ایک مہینے کے روزے رکھے۔چوبیس گھنٹے میں سے کبھی بڑا ہوتا ہے کبھی چھوٹا میں اوسط لے لیتا ہوں۔بارہ گھنٹے کا روزہ رکھ دیا یعنی بارہواں حصہ دنوں کے لحاظ سے اور پھر وہ جو صیام کے، رمضان کے ایام ہیں ان کا آدھا وقت کھانے کے لئے دے دیا اور آدھا خدا کی خاطر اور حقوق کی یاد دہانی کے لئے اور روح کی پاکیزگی کے لئے اور معاشرہ میں محبت واخوت پیدا کرنے کا سبق دینے کے لئے بہت ساری حکمتیں ہیں۔آدھا وقت روزہ کے لئے اور آدھا وقت جو ہے وہ کھانے کے لئے دے دیا۔اس سے مختلف ممالک میں مختلف رنگ میں مسلمان نے فائدہ اٹھایا۔میں مصر میں بھی کچھ عرصہ رہا ہوں وہاں کا طریق میں نے یہ دیکھا