خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 121 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 121

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲۱ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء کوئی اچھا نتیجہ اسلام کے حق میں یا اس شخص کے لئے جس پر جبر کیا گیا ہے نکل آئے گا قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق نہیں ہے۔ایک اور جگہ سورہ مومنون میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آیت تو میں نے ایک لی ہے جو میں اب پڑھوں گا لیکن اس کے علاوہ کچھ آیتیں آئی ہیں ان کا میں ترجمہ صرف سناؤں گا آپ کو تا کہ مضمون آپ کے ذہن میں آجائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آم يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ ۖ بَلْ جَاءَهُمُ بِالْحَقِّ وَاكْثَرُهُم لِلْحَقِّ كَرِهُونَ (المؤمنون: ١) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے (مگر ایسی بات نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو نا پسند کرتے ہیں۔اگر حق ان کی خواہشات کی اتباع کرتا تو آسمان اور زمین اور جو ان کے اندر بستے ہیں تباہ ہو جاتے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ان کی عزت کا سامان لے کر آئے ہیں اور وہ اپنی عزت کے سامان سے اعراض کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”مجرم یقیناً جہنم کے عذاب میں مدتوں مبتلا رہیں گے۔ان کے عذاب میں وقفہ نہیں ڈالا جائے گا اور وہ اس میں مایوس ہو جائیں گے اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک (جو دوزخ کے داروغہ کا نام ہے ) تیرے رب کو چاہیے کہ ہمیں موت دے دے۔( آگے سے مالک ان کو جواب دے گا اور ) کہے گا تم دیر تک اس میں رہو گے۔لَقَدْ جِئْنَكُم بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ (الزخرف:٧٩) اور خدا ان سے کہتا ہے ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تم میں سے اکثر حق سے نفرت اور کراہت کرتے تھے۔وہ شخص جو دل سے یہ نفرت اور کراہت کرنے والا ہے حق سے، زبان سے کچھ کہلو الینا اس سے نہ اس کی بہتری کے لئے ہے نہ اسلام کی بہتری کے لئے ہے۔یہ دو آیات میں نے اس لئے آپ کے سامنے رکھی ہیں کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ میں ایک کراہت کو دور کرنے کا جبراً ذکر کیا ہے تو اور دونوں جگہ ایک جگہ اکثر كُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ اور دوسری جگہ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا یعنی حق سے کراہت کرنے والے اور کفر کے لئے شرح صدر رکھنے والے اور مطمئن ، ان کے دل مطمئن ہیں کفر پر اور شرح صدر ہے ان کا کفر پر اور حق