خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 107

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۰۷ خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۹ء پوری کر دو، ہم سے مدد نہیں لیں گے۔آپ پوری نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے تم ان سے مدد نہ لو۔تو ان کو پھر مجبور ہو کے ان سے مدد لینی پڑی۔میں نے ان کو ہدایت کی کہ یہ پیارا سلام اور محمد اور محمد کے خدا کے پیار کے نتیجہ میں ہم کر رہے ہیں۔یہ جو پروگرام ہے آپ کا اس میں تبلیغ آپ نے نہیں کرنی صرف ان کی ضرورت پوری کرنی ہے۔ان کے دکھ دور کرنے ہیں۔باقی تو تبادلۂ خیال ہوتا رہتا ہے اس کو تو کوئی روک ہی نہیں سکتا یا جہاں دو انسان بیٹھیں گے وہ آپس میں باتیں کریں گے جہاں دو انسان آپس میں بیٹھ کے باتیں کریں گے ہر دو انسان مختلف آراء ر کھنے والے ہیں وہ تبادلۂ خیال شروع ہو جائے گا لیکن بعض نیکیاں ایسی ہیں جن کے اپنے دائرے ہیں ان دائروں سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔مجھے جب میں پرنسپل تھا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ہدایت دی تھی بڑی سختی کے ساتھ کہ یہ کالج ہم نے قوم جو تعلیم میں پسماندہ ہے ان کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے کھولا ہے غیر احمدیوں کے بچوں کو بھی تبلیغ کے لئے نہیں کھولا اس کے لئے ہمارا علیحدہ محکمہ ہے۔اس واسطے صرف یہاں تعلیم تم دو ان کو۔اور تشریف لے آئے ہمارے کالج میں ایک فنکشن کے موقع پر اور غیر احمدیوں کو کہا کہ میں نے یہ ہدایت دی ہے ان کو اور میری ہدایت کی خلاف ورزی کریں تو میرے پاس شکایت کرو تم۔ان کو یہ کہا کہ تم جب کہتے ہو کہ نماز پڑھنی ضروری ہے تو میں غیر احمدی بچے کو کہتا ہوں کہ نماز پڑھ۔میں یہ نہیں کہتا کہ احمدی امام کے پیچھے پڑھ لیکن نماز پڑھ کیونکہ نماز کو ضروری سمجھتا ہے تو بھی۔تو ویسے اسلام بڑا حسین مذہب ہے اور اسی نے ہمیں یہ سارا کچھ سکھایا ہے کہ وَاللهُ لا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرة : ۲۰۲) خدا تعالیٰ فساد کو نہیں پسند کرتا۔تو اس فساد سے بچنے کے لئے میں کہتا ہوں کہ کوئی احمدی بھوکا نہ رہے لیکن اگر فساد کا خطرہ نہ ہو، ہزار جگہ نہیں ہوگا تو اس جگہ کوئی شخص بھی بھوکا رات کو نہ سوئے لیکن فتنہ و فساد نہیں پیدا کرنا، بالکل قطعاً اس کی خدا نے اجازت نہیں دی ، خدا اس کو پسند نہیں کرتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) تیرہ سال مکی زندگی میں ہر قسم کے دکھ اٹھائے لیکن کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔وہ ہمارے لئے اُسوہ ہے، جب تک کہ حالات نہ بدل جائیں۔