خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 106
خطبات ناصر جلد هشتم 1+4 خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۹ء اس کے لئے حکومت کا ہونا یا سیاسی اقتدار کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل کرے اور ہر شخص جو اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ ہر دوسرا شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے اس کو اس حالت میں نہ چھوڑے کہ غیر یہ طعنہ دیں کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خود کو منسوب کر رہا تھا اور لاوارث تھا اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔میں تو کانپ جاتا ہوں۔مجھے کسی نے مسئلہ پوچھا تھا بعد میں وہ اسی مسئلے پر احمدی بھی ہو گئے ڈنمارک کے باشندے کہ آپ جنازہ نہیں پڑھتے غیروں کا ؟ میں نے کہا غیر تو ناراض ہو جاتے ہیں وہ تو سمجھتے ہیں کہ ہم نے جنازہ پڑھ دیا تو ہمارا مردہ جو ہے وہ شاید جہنم میں چلا جائے گا جنت میں جانے کے بجائے۔تو ہم خواہ مخواہ لوگوں کو کیوں تنگ کریں۔کہنے لگا میں یہ نہیں پوچھ رہا۔بڑا زیرک آدمی تھا، کہنے لگا مجھے، یہ ہے مسئلہ میرا کہ ایک شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا وہ ہوائی جہاز میں فوت ہو گیا اور وہ ہوائی جہاز ڈنمارک میں اترا اور جو اس کے ہم عقیدہ تھے انہوں نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا، پڑھنے کی طرف توجہ کوئی نہیں دی اور وہ لاش اسی طرح بغیر جنازے کے دفنانی پڑی حکومت کو۔اس وقت جماعت نے کیوں نہیں جنازہ پڑھا؟ میں نے کہا یہ مجھے نہیں پتا کیا واقعہ ہوا ہے لیکن اگر نہیں پڑھا تو انہوں نے بڑی غلطی کی۔میں نے پھر ان ساروں کو ہدایت دی۔میں نے کہا دیکھو کوئی شخص دنیا کا ہو، اس کا جو مرضی عقیدہ رکھتا ہو وہ۔اگر وہ ایسی حالت میں ہو کہ اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں تو ہم ہیں اس کو پوچھنے والے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ہمارے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قدر پیدا کیا ہے، گاڑ دیا ہے کہ ہم یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی شخص منسوب ہوا اور دنیا کہے یہلا وارث ہے اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔تو میں کہوں گا اب بھی یہ کہ کوئی احمدی بھوکا نہ رہے لیکن میں یہ ساتھ کہوں گا کہ کوئی بھی بھوکا۔نہ رہے بشرطیکہ آپ کی یہ کوشش فتنہ اور فساد پیدا کرنے والی نہ ہو۔مجھے رپورٹ آئی کہ بعض جگہ بعض احمد یوں نے اسی طرح بیچارے غریب تھے کچھ ، ان کی کچھ مدد کرنی چاہی تو وہ سارے اکٹھے ہو گئے لوگ کہ تم ان سے مدد نہ لو۔میں نے کہا ٹھیک ہے ان سے کہو ان کو ضرورت ہے تم