خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 91

خطبات ناصر جلد هشتم ۹۱ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتا ہے کہ جو میں کر چکا ہوں اس سے زیادہ میں ان لوگوں کی دینی صلاح کے لئے ، دینی مصالح کے لئے نہیں کر سکتا۔میں نے دلائل قائم کر دیئے ، حجج قاطعہ ظاہر کر دیں، آیات آسمانی آگئے صداقت کے اظہار کے لئے اور جیسے خدا تعالیٰ نے یہ بات بیان کی ہے خدا تعالیٰ نے یہ بھی بیان کر دیا کہ جو کچھ رسول نے انہیں تبلیغ کرنے اور تنبیہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا تھا اور ایسا اس لئے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کا غم ان کے کفر پر مصر ہو جانے کی وجہ سے زیادہ نہ ہو جائے۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ بَشِيرًا وَنَذِيرًا اے محمد ! ہم نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ تو ان لوگوں کو جو تیری پیروی کریں اور تیرے دین کے ذریعہ ہدایت پائیں بشارت دے اور جو تیرا انکار کریں اور تیرے دین سے گمراہ ہو جائیں انہیں ڈرائے اور خدا تعالیٰ کا جو فرمان ہے کہ "ولا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحبِ الْجَحِيمِ “ مختلف پہلوؤں سے اس کی تفسیر کی جاسکتی ہے اوّل یہ کہ اصحب الْجَحِيمِ ہیں وہ۔ان کفار کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور ان کی نافرمانی تجھے کوئی نقصان نہیں دے گی یعنی جو ان کی نافرمانی ہے، خود ان کو اس کا نقصان پہنچے گا تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور نہ ہی تجھ سے اس کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔جیسے کہ خدا تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ تیرا فرض تو تبلیغ ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے اور ایک اور جگہ فرمایا کہ اس رسول پر وہ کام کرنا ضروری ہے جو اس کے ذمہ لگایا گیا اور تم پر وہ کام کرنا ضروری ہے جو تمہارے ذمہ لگایا گیا۔نمبر دو کہتے ہیں کہ دوسرے اس کا مطلب یہ ہے کہ تو ہدایت دینے والا ہے۔ہدایت دینے والا دعوت دینے والا ، ہدایت پہنچا دینے والا ہے ان تک اور اس معاملہ میں تیرا کوئی اختیار نہیں یعنی اس معاملہ میں کہ وہ مانتے ہیں کہ نہیں تیرا کوئی اختیار نہیں۔پس تو ان کے کفر اور دوزخ میں جانے کی وجہ سے غم نہ کر۔اس مطلب کی ایک دوسری آیت بھی ہے جس میں فرمایا کہ تیری جان ان پر افسوس کرتے ہوئے ضائع نہ ہو جائے۔تیسرے فرمایا کہ تو موجودہ وقت میں مطیع اور نافرمان کا خیال نہ کر حالات بدلتے رہتے ہیں۔انہی میں سے تو پھر مسلمان بھی ہو گئے۔پھر وہ کہتے ہیں اس آیت سے