خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 89
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۹ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء ہے جو حق بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا ہے مگر دوسری جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق واضح طور پر بشیر اور نذیر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔بات یہ ہے کہ یہ بحث لفظی ہے اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا، خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کروایا ” إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى “ پس محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اگر کسی کو بشارت دی ہے تو وحی کے نتیجہ میں دی ہے اپنی طرف سے تو نہیں دی کوئی بشارت، اور اگر کسی کو کوئی تنبیہ کی ہے اور ڈرایا ہے کہ اگر تم یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا تو اپنی طرف سے تو نہیں ڈرایا۔وہ تو اسی واسطے ڈرایا کہ خدا نے کہا تھا کہ میں ناراض ہو جاؤں گا اگر تم ایسے کام کرو گے۔تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشیر اور نذیر ہونا ہی بتاتا ہے کہ جو تعلیم آپ لے کر آئے ، جو قرآن کریم آپ پر نازل ہوا وہ قرآن کریم خود بتارہا ہے کہ کن لوگوں کو خدا تعالیٰ بشارتیں دے رہا اور کن لوگوں پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہونے والا ہے اور قرآن کریم ان کو ڈرا رہا ہے کہ دیکھو ایسے کام نہ کر دور نہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا۔تو اس آیت سے بھی ہمیں پتا لگتا ہے کہ اسلام نے کامل مذہبی آزادی دی ہے اور ایک مفتر نے جیسا کہ میں ابھی بتاؤں گا یہ کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے دلوں پر تصرف کرنے کی طاقت ہی نہیں دی گئی تھی۔جب طاقت ہی نہیں دی گئی تو الزام کیسے۔یعنی لا تسل کا لفظ بتاتا ہے کہ آپ کو یہ طاقت نہیں دی گئی تھی کہ زبر دستی کسی کے دل کی حالت کو بدلیں۔جب طاقت ہی نہیں تھی تو الزام بھی نہیں۔پوچھ گچھ بھی نہیں ، باز پرس بھی کوئی نہیں۔اس سلسلہ میں میں نے چند ایک نمونے مشہور مفسرین کے بھی لئے ہیں کیونکہ جب ہم بات کرتے ہیں تو ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہمیں کہتا ہے کہ تم خودساختہ تفسیر کر رہے ہو۔پہلوں نے بھی اس کے متعلق کچھ کہا ؟ اس لئے میں کچھ نمونے پہلوں کے بھی اس سلسلہ میں لیتا ہوں اور ان کو بیان کر دیتا ہوں۔ایک مشہور مفسر امام رازی جن کی تفسیر تفسیر کبیر“ کے نام سے مشہور ہے اِنَّا اَرْسَلْنَك الحق کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔