خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 88
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۸ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء کرنا ہے۔ان کے اوپر کوئی جبر نہیں کیا جاسکتا اور اگر کوئی منافق منافقانہ مفسدانہ راہوں کو اختیار کرتا ہے ( منافق تو پہلے دن سے ہی ہمارے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ہمیں ایسے واقعات نظر آتے ہیں کہ خطر ناک نفاق کا مظاہرہ کرنے والے عبد اللہ بن ابی ابن سلول جیسے لوگ موجود تھے )۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بری قرار دیا گیا اس الزام سے کہ کیوں بعض نے نفاق کی راہوں کو اختیار کیا وَ لَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحِبِ الْجَحِيمِ - یہ منافق جو إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کی رُو سے جہنم کے بدترین حصوں میں پھینکے جانے والے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی وجہ سے کوئی الزام عائد نہیں ہوتا، نہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی وجہ سے کوئی باز پرس ہوگی۔تیسرے معنی وَ لا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحِبِ الْجَحِيمِ کے تیسری آیت جو میں نے پڑھی ہے اس کی روشنی میں ، یہ ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر باز پرس نہیں کرے گا خدا کہ ایمان لانے کے بعد لوگ مرتد کیوں ہو گئے۔یہ ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے کہ جو ایمان لے آیا اسے زبر دستی دائرہ اسلام کے اندر پکڑ کے رکھیں۔یہ اس کا کام ہے۔ساری بناہی آزادی پر ہے جزا اور سزا۔خدا تعالیٰ کی رضا اور خدا تعالیٰ کے قہر کا جلوہ جو ہے، اس کا انحصار ہر شخص کے اپنے افعال پر ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ کوئی ذمہ داری ہے نہ آپ سے کوئی پوچھ گچھ اس کے متعلق کی جائے گی۔جماعتوں اور گروہوں کے لحاظ سے یہ تین گروہ ہی ہیں۔کفر کرنے والے، نفاق کی راہوں کو اختیار کرنے والے اور ارتداد اختیار کرنے والے۔اور تینوں وَ لَا تُسْعَلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ “ کے مفہوم کے اندر آتے ہیں کیونکہ تینوں کے متعلق قرآن کریم نے دوزخی اور دوزخ کی آگ میں پڑنے والوں کا لفظ استعمال کیا ہے۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) تجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا۔پہلے مفسرین اس بحث میں بھی پڑے ہیں کہ اس آیت میں بشیر اور نذیر کا تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے یا حق کے ساتھ ہے کہ ہم نے ایسے حق کے ساتھ تجھے بھیجا