خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 80
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۰ خطبہ جمعہ ۲/ مارچ ۱۹۷۹ء خدا کی ایک اور شان نظر آتی ہے۔پھر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ یہ ساری بے شمار کیلیکسیز ( ان گنت قبائل جو ہیں یہ ) قانون کی پابندی کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کے لئے جو قانون اور قواعد بنائے ہیں۔ان کے پابند ہیں۔آپس میں نہ لڑتے ہیں نہ جھگڑتے ہیں۔کبھی یہ نہیں ہوا کہ ایک قبیلہ کا ستارہ دوڑ کے دوسرے قبیلہ میں چلا جائے یا ادھر کا ادھر آجائے یا ایک دوسرے کو نقصان پہنچا ئیں بلکہ جو حکم ہے وہ کر رہے ہیں اور پھر یہ کہ ایک تونی گیلیکسیز پیدا ہورہی ہیں) جو موجود ہیں ان کی صفات میں زیادتی ہو رہی ہے خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کے نتیجہ میں جس شخص کو صرف اتنا علم ہی حاصل ہو جائے باقی ( سمجھیں آپ ) بالکل اندھیرا ہے۔صرف یہ روشنی اس کے سامنے آئی ہے اپنے رب کے متعلق۔تب بھی اس کے دل سے نکلتی ہے تکبیر کہ خدا سب سے بڑا ہے بڑا بلند ہے اور سُبحان اللہ۔ایسا قانون بنا دیا کہ جتنا گہرائیوں میں بھی جاؤ یہ پتا لگتا ہے کہ کوئی عیب اس کے فعل میں نظر نہیں آتا اور کوئی تضاد ہمیں وہاں نظر نہیں آتا۔قرآن کریم میں کئی جگہ کہا ہے۔سورۃ ملک میں بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اور اس کے جلوؤں میں تمہیں کوئی تضاد نظر نہیں آئے گا۔یہ بڑا لطیف مضمون ہے۔ایک ہے سائنس، آپ یہ کہیں گے کہ ہر ایک کیسے ہر سائنس پر عبور حاصل کر لے۔ایک ہے وہ سائنس جس کی تحقیق میں ایک جماعت سائنس دانوں کی مشغول ہوتی ہے اور بڑے پیسے خرچ کرتی رہی ہے دنیا۔انتہائی قیمتی آلات بناتے ہیں مثلاً ستاروں کا جو یہ علم ہے اس کے لئے کروڑوں کروڑوں ڈالر کی انہوں نے دور بینیں بنائی ہیں ستاروں کو دیکھنے کے لئے۔ہر علم کی ان باریکیوں اور گہرائیوں میں تو ہر انسان نہیں جا سکتا لیکن جو ان کے اندر بنیادی اصول کام کر رہے ہیں وہ ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے تا کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا جو سایہ ہے وہ ہماری روح کے اوپر پڑے اور ہم بہکنے سے محفوظ ہو جائیں۔پھر ایٹم کی طاقت ہے ایک ذرے کے اندر اتنی طاقت خدا تعالیٰ نے بند کر کے رکھ دی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک طرف وسعت اتنی کہ گیلیکسیز کا شمار ہیں اور ہر گیلیکسی میں اتنے سورج کہ کسی ایک گیلیکسی کے سورجوں کی تعداد بھی ہم پتا نہیں لگا سکے اور دوسری طرف ایک ذرہ (ایٹم ) لے لو اس کے اندر اتنی طاقت