خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 79
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۹ خطبہ جمعہ ۲/ مارچ ۱۹۷۹ء ہیں جو گن نہیں سکتا بالکل چھوٹی عمر میں بعض بچے کہہ دیتے ہیں (ماں یا باپ کو ) کہ مجھے یہ ستارہ لا کے دو۔یعنی ان کو پتا کچھ نہیں ہوتا لیکن نظر آ رہا ہے۔لیکن جب تک افلاک کا یہ علم نہ ہو کہ کس قدر وسعت خدا تعالیٰ کی اس پیدائش میں ہے جس کو ہم زمین و آسمان کہتے ہیں اب تک جو علم انسان نے بہت دور دیکھنے والی دور بینیں ہیں ان سے حاصل کیا ہے اور وہ سائنس کے نئے طریقے یہ ہیں وہ جو پہلے شیشے سے دیکھنے والے طریقے تھے وہ اب نہیں رہے۔بہت زیادہ آگے بڑھ چکا ہے انسان۔جو اب تک معلوم کیا وہ بھی یہ ہے کہ اس ہر دو جہان میں، ان آسمانوں میں بے شمار ایسے قبائل ہیں ستاروں کے، بے شمار ایسے قبیلے ہیں جن کو یہ کیلیکسیز (Glaxies) کہتے ہیں گیلیکسی ستاروں کے ایک ایسے قبیلے کا نام ہے جو اپنا ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے اور بے شمار سورجوں ر مشتمل یہ قبیلہ بحیثیت مجموعی ایک نامعلوم جہت کی طرف حرکت کر رہا ہے اور دوسروں کے ساتھ اس کا کو ئی تعلق نہیں۔جو دوسری کیلیکسیز دوسرے قبائل ہیں ان کا ایک مستقل وجود ہے قبیلے ہونے کے لحاظ سے اور قبیلہ ہونے کے لحاظ سے۔اس کے اندر ان گنت ( یعنی جس کو انسان گن نہیں سکا ) سورج ہیں اور ان سورجوں کے گرد ستارے گھوم رہے ہیں۔تو سورج بھی ان گنت ہیں تو جوان کے ساتھ ستارے مل جائیں تو ان کی تعداد کیا بن جاتی ہے، بے شمار گیلیکسیز ، بے شمار قبائل ہیں۔ہر گیلیکسی میں بے شمار سورج ہیں اور پھر حرکت کر رہے ہیں یہ، اور ان کی حرکت متوازی نہیں بلکہ ہر آن ایک دوسرے سے پرے ہو رہا ہے ہر قبیلہ، ہر سیلیکسی اور درمیان میں ان کا فاصلہ بڑھتا چلا جارہا ہے اور سائنسدان کہتے ہیں کہ جب دو گیلیکسیز میں یعنی ستاروں کے ایسے قبیلے میں جس کے اندر بے شمار سورج ہیں جن کے گرد دوسرے ستارے پھر رہے ہیں اتنی جگہ ہو جائے کہ ایک لیلیکسی بے شمار ستاروں کی وہاں سما سکے تو وہاں کُن فیکون سے ایک نئی لیلیکسی ( ستاروں کا قبیلہ ) پیدا ہو جاتی ہے۔بے شمار سورجوں پر مشتمل ایک نیکیلیکسی وہاں پیدا ہو جاتی ہے۔یہ کہنا کہ اس علم کی ایک مومن متقی کو ضرورت نہیں غلط بات ہے۔قرآن کہتا ہے لَا تَتَّخِذُوا آیت اللهِ هُزُوا خدا تعالیٰ کی مخلوق جو ہے اس کی گہرائیوں میں جو جاتے ہیں وہی معرفت صفاتِ باری حاصل کر سکتے ہیں۔ہر آدمی تو ان گہرائیوں میں جانہیں سکتا۔اتنا بڑا علم ہے یہ اور اس میں پھر