خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 76
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۶ خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۹ء خدا تعالیٰ کی صفات کے فعلی جلوے ہیں جس سے یہ کائنات وجود میں آئی ، جس کے نتیجہ میں ہر دو جہان قائم ہیں اور جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر چیز کے اندر بے شمار خاصیتیں پائی جاتی ہیں اور ان خواص میں مرورِ زمانہ کے ساتھ زیادتی ہوتی چلی جارہی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج سے دس ہزار سال پہلے جو گندم زمین پیدا کرتی تھی اس کی صفات اور جو گندم آج زمین پیدا کر رہی ہے اس کی صفات میں بھی فرق ہے کیونکہ اس عرصہ میں صفات باری کے نئے جلوؤں نے صفاتِ گندم میں زیادتی پیدا کی ہے۔معرفت ذات وصفات باری کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ میں بتا رہا ہوں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے ہیں ان کی معرفت حاصل ہو۔اسی لئے قرآن کریم نے دنیا کی ہر چیز کو آیت قرار دیا ہے۔آیات اللہ میں سے اسے ایک چیز قرار دیا ہے۔بعض جگہ بڑی تفصیل سے ہواؤں کا چلنا ، ان کا پانی اٹھانا، یعنی بخارات اٹھانا ، پھر بادل بن جانا ، پھر بادلوں کا برسنا، زمین کا روئیدگی اگانا، جنسیں پیدا کرنا، درختوں کا پت جھڑ ، بعض موسموں میں پتے جھاڑ دینا، نئے اگانا، وغیرہ وغیرہ سب کو آیات کے زمرہ میں قرآن کریم میں رکھا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے جو فعلی جلوے ہیں یعنی جن سے یہ کائنات بنی اور کائنات کی ہر چیز کی صفات میں زیادتی ہوتی چلی جارہی ہے اور خدا تعالیٰ کے جو قولی جلوے ہیں جو کامل شکل میں شریعت کے لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن عظیم میں ظاہر ہوئے ، ان ہر دو کا جاننا۔پوری طرح معرفت حاصل کرنا، پہچانا، سمجھنا، اس کی گنہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا۔اس کے حسن سے واقفیت حاصل کرنا، اس کی افادیت کا پتا لگانا وغیرہ وغیرہ۔ان چیزوں سے ہمیں خدا کی اور اس کی صفات کی معرفت ملتی ہے۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا تَتَّخِذُوا التِ اللهِ هُزُوًا (البقرة : ۲۳۲) خدا تعالیٰ کی جو آیات ہیں انہیں معمولی سمجھ کے محل تمسخر اور استہزا نہ بناؤ کیونکہ اس کے بغیر ان آیات کے سمجھنے کے بغیر تم خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے ، خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کئے بغیر تم خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں کر سکتے ، خدا تعالیٰ کا ذکر صحیح رنگ میں کئے بغیر تم حقیقی نجات اور کامیابی اور فلاح نہیں حاصل کر سکتے اپنی زندگی میں۔اس آیت میں پھر آیات اللہ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ہمارے سامنے یہ مضمون بیان کیا