خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page ix
VII ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کی۔خدا تعالیٰ نے تو یہ کہا کہ تم تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرو گے میرے 66 پیار کو حاصل کرو گے۔“ ۹- ۱۵ فروری ۱۹۸۰ء کے خطبہ جمعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔”خدا تعالیٰ کی کسی سے رشتہ داری نہیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کی اجارہ داری نہیں کہ وہ کسی اور پر اپنا رحم ہی نہیں کرے گا۔ہر وہ انسان خواہ وہ افریقہ کا ہو، یورپ ، امریکہ، چین یا روس کا جو بھی خدا سے پیار کرے گا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے گا وہ خدا کی محبت کو حاصل کرے گا اور جو قومیں اس میں ترقی کریں گی ان میں سے جو سب سے زیادہ ترقی کرنے والی ہوگی وہ مرکز بن جائے گا اس تحریک کا۔پاکستان کے ساتھ یا ہندوستان کے ساتھ تو خدا تعالیٰ کو پیار نہیں، خدا تعالیٰ کو پیار ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند کے ساتھ جس کی زندگی کا نقشہ اگر ایک فقرہ میں کھینچنا ہو تو ہم یہ کہتے ہیں کہ مہدی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں فانی ہو گئے۔اپنا کچھ بھی نہیں رہا اور اس میں فخر محسوس کیا اور اعلان کر دیا۔“ بع ”وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے“ ۱۰ ۱۰ را کتوبر ۱۹۸۰ء کے خطبہ جمعہ میں پندرھویں صدی ہجری کے آغاز پر فرمایا:۔چودھویں صدی اب ختم ہو رہی ہے اور غالبا ۸ / نومبر کو پندرھویں صدی کا پہلا دن ہے غالباً میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ایک آدھ دن چاند کی وجہ سے آگے پیچھے ہو سکتا ہے۔اس دن ہر احمدی کو چاہیے کہ ہر مسلمان کو بتائے کہ چودھویں صدی ختم ہو گئی ،تمہاری ساری اُمید میں بھی ختم ہو گئیں۔اس صدی میں، چودھویں صدی میں ایک نے دعوی کیا اس کے لئے نشان پورے ہو گئے تم انتظار کرتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا ہے کہ انتظار کرو اور سجدوں میں گر کے رو رو کر دعائیں کرو۔تمہارے ناک رگڑے جائیں اور زخم پڑ جائیں خدا تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا ، اس واسطے کہ خدا تعالیٰ کی وحی کے مطابق جس نے آنا تھا وہ آچکا۔تو ان کو کہو کہ اگر ذرہ بھی تمہارے دل میں ایمان ہے تو آج کا دن پکار پکار کر تمہیں کہہ رہا ہے کہ آج تم احمدیت میں داخل ہو جاؤ۔“