خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 840
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۴۰ خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء کا فضل چاہیے۔انسان محض اپنی کوششوں کے نتیجہ میں ہدایت پر قائم نہیں رہ سکتا اور جو امت، امت مسلمہ آج سے چودہ سو سال پہلے قائم کی گئی اسے یہ ہدایت دی گئی اجتماعی زندگی سنوار نے کے لئے کہ نسلاً بعد نسل تم نے ہدایت پر قائم رہنا ہے اور ہر نسل نے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے دعا و مجاہدہ بھی کرنا ہے اور ہر نسل نے اپنی آنے والی نسل کے لئے دعائیں بھی کرنی ہیں کہ وہ صراط مستقیم پر قائم رہنے کے لئے کوشش کریں اور خدا سے یہ توفیق بھی مانگیں کہ وہ صراط مستقیم پر انہیں رکھے۔ہر نسل کا یہ فرض ہے کہ اپنے لئے اور آنے والی نسلوں کے لئے وہ دعائیں کرتی رہے۔ہماری تاریخ میں متعدد مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور اس صورت میں انہوں نے دشمن کا مقابلہ کیا تو بارہ ہزار کی تعداد ساری قوم کی فوج کے لئے کافی تھی ان پہ بھاری ہوگئی جیسا کہ پین میں طارق جب اترے تو کہتے ہیں کہ صرف سات، آٹھ ہزار مجاہد، رضا کاران کے ساتھ تھے اور تھوڑے ہی عرصہ بعد چار ہزار کی کمک ان کو ملی۔ان کے پاس اس طرح پر صرف بارہ ہزار مجاہدین تھے اس کے مقابلہ میں جس ملک میں وہ اترے ان کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ فوج تھی ، ملک ان کا تھا، رستوں سے واقفیت ان کو تھی ، جو فوجی نہیں تھے جو سول آبادیاں تھیں، شہری آبادیاں تھیں ان کا مذہب وہی تھا جو حاکم وقت کا تھا، ان کی عادات وہی تھیں ، ان کا معاشرہ وہی تھا۔وہ انجان نہیں تھے اپنے ملک میں لیکن یہ بارہ ہزار ایک ایسے ملک میں گئے۔کوئی واقفیت جس ملک سے نہیں رکھتے تھے، راہوں سے واقفیت نہیں تھی۔معاشرے سے واقفیت نہیں تھی ، آب و ہوا مختلف تھی اس علاقہ سے جہاں سے وہ آئے تھے، کھانے مختلف قسموں کے تھے جن کی انہیں عادت نہیں تھی مگر ایک اور بھی اختلاف تھا ان میں۔جس قوم کے ساتھ ان کا مقابلہ ہوا وہ خدائے واحد ویگانہ پر ایمان نہیں رکھتی تھی لیکن یہ بارہ ہزار خدا تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے، اس خدا پر جو قادر مطلق ہے جس کا حکم اس دنیا میں چلتا ہے جو اگر اور جب تھوڑی سی تعداد کی طاقت دینا چاہے اور فتح دینا چاہے تو دنیا کی ساری طاقتیں مل کے بھی خدا تعالیٰ کے اس فیصلہ کو نا کام نہیں بناسکتیں۔