خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 830 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 830

خطبات ناصر جلد هشتم ۸۳۰ خطبه جمعه ۱۲ /دسمبر ۱۹۸۰ء قریباً ڈیڑھ سو سال کے بعد انہوں نے اپنی طاقت کو جمع کیا اور قرطبہ پر حملہ کیا اور اس کو بھی اپنے قبضہ میں لے لیا اور جہاں تک مجھے یاد ہے اس جنگ میں مسلمانوں کے بعض نواب صاحبان جو تھے وہ عیسائیوں کے ساتھ ساتھ شامل ہوئے تھے قرطبہ کے مسلمان حاکم کے خلاف اور ان کی مدد سے عیسائیوں نے یہاں قبضہ کیا۔پھر ۱۲۳۶ء سے قریباً ڈھائی سو سال کے بعد سقوط غرناطہ ہوا اور اس سارے عرصے میں سپین کے مسلمانوں نے اپنے کھوئے ہوئے علاقے جو تھے وہ واپس لینے کی کوشش نہیں کی۔اس کی وجہ تھی، اس کی وجہ تھی اختلاف، ایک دوسرے سے لڑائیاں کر رہے تھے، ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ایک دوسرے کی عزتوں پر ہاتھ ڈال رہے تھے۔ایک دوسرے کے خلاف بدظنیاں پھیلا رہے تھے۔ایک دوسرے کے خلاف فتوے دے رہے تھے اور یہ تصویر ہمارے سامنے آتی ہے بڑی بھیانک حالانکہ ہمیں کہا گیا تھا۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمُ اَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ محْتُم بِنِعْمَتِة اِخْوَانًا (ال عمران : ۱۰۴) یہ مسلمان حملہ آور قوم تھے یہ قوم قوم کے لوگوں سے بنی ہوئی جماعت تھی یعنی جو گئے پہلے لینڈ (Land) کئے بارہ ہزار یہ ایک قبیلے سے، ایک علاقے سے ان کا تعلق نہیں تھا کیونکہ اسلامی معاشرہ میں قو میں ایک دوسرے سے مل گئی تھیں۔کوئی شام سے آگئے تھے افریقہ میں ، کوئی عراق سے آگئے تھے، کوئی سعودی عریبیہ سے آگئے تھے ، کوئی مصر سے آگئے تھے یہ مرا کو کے علاقے میں، اور سب ایک بُنْيَانِ مَرْصُوص تھے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کر رہے تھے اور شیطان کا ہر وار جو ان کے اوپر ہوتا تھا نا کام ہو جاتا تھا پھر رخنہ پڑ گیا۔پھر وہ بُنْيَانِ مَرْصُوص نہیں رہی بلکہ تعصب نے سوراخ کئے اس میں، حسد نے سوراخ کئے اس میں، تباغض نے سوراخ کئے اس میں ، بدظنیوں نے سوراخ کئے اس میں اور خود نمائی اور انانیت نے سوراخ کئے اس میں اور وہ بُنْيَانِ مَخصوص جس کو دنیا کی کوئی طاقت توڑنے کے قابل نہیں تھی وہ پاش پاش ہو گئی۔چھوٹے چھوٹے انہوں نے بنالئے علاقے۔وہ اس کے اندر نواب بن کر بیٹھ گئے اپنی نوابی کی ان کو فکر رہی لیکن اسلام کی محبت اور اسلام کی کوئی فکر باقی نہیں رہی۔یہ ہوا اس