خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 823 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 823

خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۲۳ خطبه جمعه ۵ /دسمبر ۱۹۸۰ء یہ ہدایت جو ہے یہ اقوم ہے دلائل عقلیہ کے لحاظ سے اور برکات سماویہ کے لحاظ سے دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مبعوث ہوئے شیطان نے اپنے گروہ کے ذریعے اس شریعت پر اعتراض کرنے شروع کر دیئے اور جتنے بھی اعتراض ہوئے خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو کھڑا کر تا رہا جو ان کے جواب دیتے رہے اور اس زمانہ میں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ اور آپ کی جماعت کے اوپر یہ ذمے داری ڈالی گئی ہے کہ عقل کے میدان میں ہر اعتراض کا جواب دو۔جواب ہے موجود۔کہاں سے حاصل کرو؟ دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے جواب حاصل کرو اور کئی دورے میں نے کئے ہیں۔پہلی دفعہ بھی اعتراض سنا تو اسی وقت خدا تعالیٰ نے اس کا ایسا جواب بتایا کہ بعض دفعہ چہرے زرد ہو گئے بعض دفعہ زبانیں خاموش ہو گئیں۔بہر حال یہ ایک زبردست انعام ہے جو اُمت محمدیہ کو دیا گیا ، دلائل عقلیہ اور برکات سماویہ۔دنیا کے ہر مذہب ، ہر ازم پر غالب آئے گی یہ اُمت ، ایسے لوگ اس میں پیدا ہوتے رہیں گے۔چوتھا پہلوا قوم کے معانی کا یہ ہے کہ یہ شریعت کا ملہ انسانی فطرت اور سرشت سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ایک کامل دائرہ کی طرح بنی آدم کے تمام قویٰ پر محیط ہے۔کامل راہنمائی ہے۔کوئی ایسا پہلو اس نے نہیں چھوڑا جس کی کامل نشو ونما کے سامان اس میں نہ پیدا کئے گئے ہوں۔اس کو ہم اس طرح بھی بیان کر سکتے ہیں کہ جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے ان تمام کمالات کے حصول کی راہ اس کو دکھلا دینا یہ قرآن کریم کا دعوی ہے خدا تعالیٰ نے بیان کیا ہے اس آیت میں کہ قرآن کریم میں یہ طاقت ہے کہ ہر پہلو انسانی فطرت کا جو ہے ہر قوت ، استعداد اور صلاحیت جو اس کو دی گئی ہے، اس کی کامل نشو و نما کس طرح کی جاسکتی ہے۔اس طرف قرآن کریم ہدایت دیتا ہے اور وہ راہیں اس کے لئے میتر اور آسان کر دی ہیں جن کے حصول کے لئے اس کی فطرت میں استعداد رکھی گئی ہے۔قرآن کریم نے جو ہدایت انسان کے ہاتھ میں دی، یہ جو شریعت ہے یہ اقوم ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قدر عظیم ہدایت کے نزول کے بعد اگر انسان اس پر ایمان لائے