خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 822
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۲۲ خطبه جمعه ۵ /دسمبر ۱۹۸۰ء اقوم کے لفظ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ یہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔جیسا کہ سیدھی راہ کی تفصیل کے بیان سے آپ سمجھ گئے ہوں گے۔قیامت تک قائم رہنے والی سیدھی راہ جو ہے قرآن کریم اس کی طرف ہدایت کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک ہر آنے والی نسل جو نئے مسائل لے کر پیدا ہوگی ان کا حل اس میں موجود ہے۔( یہ بڑا اہم نکتہ ہے ) ہر نسل انسانی نئے مسائل لے کر پیدا ہوتی ہے ہر نسل انسانی کے نئے مسائل کو حل کرنے کی اور اس طور پر ان کی فلاح اور بہبود کا سامان پیدا کرنے کی طاقت قرآن کریم میں موجود ہے اور یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ اپنے سفر میں میں اس دنیا کو جو ابھی تک اسلام کے نور سے منور نہیں اس بات کا قائل کر دیتا ہوں کہ جو تمہارے مسائل ہیں اور جنہیں تم حل نہیں کر سکے انہیں قرآن کریم حل کرتا ہے۔تیسرے معنی ”اقوم“ کے یہ ہیں (سب معانی کا آپس میں تعلق ہے ) کہ پہلی کتب سماویہ میں ، پہلی شریعتوں میں جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیں، ان کی دائی صداقتیں اس میں پائی جاتی ہیں۔کہتے ہیں ایک لاکھ میں یا چوبیس ہزار انبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرے تھے ان میں خدا جانے کتنے صاحب شریعت ہوں گے۔قرآن کریم نے کہا ہے ہم نے بعض کا ذکر کیا بعض کا ہم نے ذکر نہیں کیا لیکن ہر قوم کی طرف ہم نے نذیر بھیجا۔قوموں کے نام مٹ گئے۔ان کی طرف آنے والے انبیاء کے نام یاد نہیں رہے۔ان شریعتوں کو ہماری تاریخ بھول گئی لیکن ہر شریعت میں جو ابدی صداقتیں تھیں ان کو قرآن کریم جمع کرنے والا ہے۔اس واسطے اس کی راہ سیدھی راہ بھی ہے ، قیامت تک انسان کے مسائل حل کرنے والی طاقت رکھنے والی راہ بھی ہے اور ایک کامل راہ بھی ہے۔جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انسانِ کامل ہیں۔آپ کی لائی ہوئی شریعت شریعت کا ملہ ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ رہبری میں بھی کامل ہے۔یہ فلسفہ نہیں ہے ، اس کی تفصیل میں جائیں تو یہ معنی ہیں کہ دلائل عقلیہ کے لحاظ سے اتنی زبر دست یہ کتاب ہے کہ کسی عقلمند کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی کہ عقلاً اس پر اعتراض کر سکے، اگر نا سمجھی سے کر دیا جائے تو ہم اسے سمجھا سکتے ہیں کہ تمہارا اعتراض غلط ، اسلام کی تعلیم صحیح ہے۔تو جو اس کو دلائل عقلیہ عطا ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بھی کامل ہیں۔دوسرے برکات سماویہ کے لحاظ سے یہ کامل کتاب ہے۔