خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 820 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 820

خطبات ناصر جلد هشتم ۸۲۰ خطبه جمعه ۵ /دسمبر ۱۹۸۰ء بہت سے لوگ دوسروں کی کھیتیوں کو پاؤں نیچے روندنے کی بھی پروا نہیں کرتے اور اپنے راستے کو سیدھا کرنے کے لئے کھیتی میں پگڈنڈی بنا لیتے ہیں۔بڑی کثرت سے یہ آپ کو نظر آتا ہے کیونکہ پگڈنڈی پر چل کر وہ قریب ترین فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنے مقصود کو منزل مقصود کو پہنچ جاتے ہیں۔ان آیات میں جو مضامین بیان ہوئے ہیں اس میں سے میں اس وقت دو کولوں گا۔دوست جانتے ہیں کہ جب میں سفر پر روانہ ہوا اس وقت بھی بیماری کی حالت میں روانہ ہوتا تھا۔گردے میں بڑی سخت انفیکشن (Infection ) ہوئی اور یہ ۲۵ / مارچ کی بات ہے اور اپریل مئی جون تین مہینے کے بعد ۲۴ جون کو جب میں سفر پہ روانہ ہوا اور میں نے ربوہ چھوڑا تو اس وقت بھی ڈاکٹر کہتے تھے کہ دس فیصد بیماری ابھی باقی ہے اور دوا جو ہے اس کا استعمال جاری رہنا چاہیے۔چنانچہ مزید قریباً دو اڑھائی ماہ میں نے وہ دوائی کھائی جو خود دوائی بھی کمزور کرنے والی ، اس کے بعد میں نے چھوڑ دی۔پھر یہاں جب آئے تو ضروری ذمے داریاں انتظار کر رہی تھیں، انصار اللہ کا اجتماع تھا، پھر خدام کا اجتماع تھا۔میں نے محسوس کیا کہ گردے میں انفیکشن پھر زیادہ ہوگئی ہے۔یہاں ٹیسٹ کروایا تو کافی نکلی لیکن میں نے یہاں کے ڈاکٹروں کو کہا کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران میں آپ کی دوائی اس لئے نہیں کھاؤں گا کہ زیادہ کمزوری ہو جائے گی اور میں ذمہ داری کو ادا کرنا چاہتا ہوں اور بیماری کو بھول جانا چاہتا ہوں۔ان اجتماعات کے بعد میں اسلام آباد گیا اور وہاں ڈاکٹر محمودالحسن صاحب نے معائنہ کیا اور ٹیسٹ لئے اور گردے میں سوزش کی تکلیف نکلی تو انہوں نے ایک ہی وقت میں دو دو ا ئیں شروع کروادیں مجھے، اور دونوں ہی کمزور کرنے والی قریباً چھ دن ہو گئے ہیں مجھے وہ کھاتے ہوئے اور کمزوری محسوس کر رہا ہوں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری سے نجات دے اور صحت کے ساتھ مجھے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطا کرے۔اس وقت میں دونوں آیات کے مضامین نہیں بیان کروں گا صرف دو باتیں میں نے ان دو آیات سے اٹھائی ہیں۔ایک یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جس راستہ کی طرف ہمارا پیارا یہ قرآن، قرآنِ عظیم جو ہے وہ راہنمائی کرتا ہے وہ اقوم “ ہے۔عربی زبان میں اقوم کے بہت سے معانی ہیں۔یہاں جو معانی