خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 812
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۱۲ خطبه جمعه ۲۸ / نومبر ۱۹۸۰ء اور آنکھ حُسن دیکھتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے حسن کا ایک پر تو اور جلوہ ہے۔کوئی چیز ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھے بغیر وہ ہو جو ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کا مثلاً ایک صفت میں لے لیتا ہوں۔ہر صفت کو تو لے کے نہیں بیان کیا جا سکتا، ساری عمر نہیں بیان کیا جاسکتا۔خدا تعالیٰ کی عظمت اس کے الْحَيُّ اور الْقَيُّومُ ہونے میں۔خدا تعالیٰ الحَی زندہ ہے بغیر کسی احتیاج کے یعنی اپنے کمال کی جو حیات ہے اس کی ، اللہ تعالیٰ کی جو زندگی اور حیات ہے وہ اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور اس کے لئے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے اور وہ قائم ہے اپنی ذات میں اور جو اس کا قائم ہونا ہے وہ بھی اپنے کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ساری صفات اسی طرح اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہیں۔اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی ذات میں اپنے کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ایک ایسا کامل جس کا کمال اپنے کمال کو پہنچا ہوا ہے جو انسان کی عقل اور انسان کی ذہانت اور انسان کی دسترس سے اتنابالا اور ارفع ہے کہ اس کی جھلک تو ہم دیکھ سکتے ہیں جب وہ چاہے اور جب تک وہ چاہے لیکن اس کا احاطہ کرنا یہ انسان کا کام نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیا کی صفات اور خصلتیں جو ہیں اس کے اندر ان کی ان خصلتوں اور صفات کے احاطہ کا دعوی کرنا یہ بھی دعوئی خدائی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے جو چیز نکلی اس کے اندر غیر محدود صفات پائی جاتی ہیں اور آپ نے مثال دی ہے خشخش کے دانے کی کہ اس کے اندر اس قدر صفات ہیں کہ جب تک انسان اس آدم کا ، اس کی اولا دیا آگے آنے والے آدم جو ہیں ان کی نسلیں نئی سے نئی تحقیق شخص کے دانوں پر کرتی چلی جائیں گی ،نئی سے نئی چیزیں اس میں سے نکلتی چلی جائیں گی اور صفات دانہ خشخش کبھی ختم نہیں ہوں گی۔یہ حقیقت ہے بہت ساری مثالیں کبھی میں دیتا ہوں۔ایک نسل نے کیا سمجھا، سب کچھ پالیا۔اگلی نسل نے کہا نہیں پایا تم نے نئی دیکھو چیزیں ہیں اس کے اندر۔بہر حال میں بتا رہا تھا لکی اور الْقَيُّوم دنیا کی ہر شے زندہ ہے یعنی جو اس کے اندر صفات ہیں وہ موجود ہیں۔زندگیاں مختلف قسم کی ہیں۔ایک تو انسان کی زندگی ہے پھر حیوان کی زندگی ہے پھر درختوں کی زندگی ہے پھر معدنیات کی اپنی ایک زندگی ہے۔اُس کے اندر بھی ارتقا کا ایک دور