خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 799 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 799

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۹۹ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۰ ١٩٨٠ء ملوث ہو گیا ہے اور سیشن جج نے پھانسی ، پنجاب کے ہائی کورٹ نے پھانسی، سپریم کورٹ نے پھانسی۔گورنر نے ہماری اپیل رد کر دی اور اب ہم پریذیڈنٹ صاحب کے پاس اپیل کر رہے ہیں اور وکلا کہتے ہیں کہ آج تک تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ ان حالات میں صدر مملکت اس قسم کی اپیل کو منظور کر لے۔اتنا بھیا نک انہوں نے نقشہ کھینچا ہوا تھا اپنے خلاف کہ میرے دماغ میں پہلا خیال جو آیا وہ غلط تھا۔دماغ میں یہ فقرہ بنا کہ ان حالات میں پھر جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس کی رضا پر راضی رہو۔تو اس وقت مجھے خدا کے فرشتے نے جھنجھوڑا کہ اپنے ایک احمدی کو تم اس وقت یہ سبق دینا چاہتے ہو کہ اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آسکتا ہے جب خدا تعالیٰ بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔خیر میں کانپ اٹھا، بڑی استغفار کی اور ان کو میں نے یہ لکھا کہ دعائیں کرو میں بھی دعا کروں گا۔خدا تعالیٰ کے سامنے تو کوئی چیز انہونی نہیں ہے۔جو وہ چاہتا ہے کرتا ہے۔میرا خط چلا گیا۔کوئی دس پندرہ دن کے بعد ان کا خط آیا کہ وہ چُھٹ کے ہمارے گھر آ گیا ہے۔تو قرآن کریم نے تو اعلان کیا تھا۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) ایک اور دوست ہیں اچھے بڑے زمیندار وہ اسی طرح کسی کیس میں ملوث ہوئے۔ان کا پرچے میں نام آ گیا۔ان کے گھر سے بڑی فکر مند اُن کی اہلیہ صاحبہ آئیں اور بار بار کہیں دعا کریں ضمانت پر رہا ہو کے گھر آجائیں۔بہت پیچھے پڑی رہیں۔میں نے کہا دعا کریں گے۔میں نے دعا کی تو مجھے بتایا گیا کہ ضمانت پر رہا ہو کے گھر نہیں آئیں گے بری ہو کے آجائیں گے۔دوسری دفعہ آئیں تو میں نے انہیں کہا ضمانت کی ساری کوششیں چھوڑ دو پندرہ دن مہینہ ڈیڑھ مہینہ لگ جائے ضمانت پہ یہ شخص رہا نہیں ہوگا بری ہوگا اور انہوں نے میرے کہنے کے باوجود بڑی کوششیں کیں ادھر ادھر سے۔ساری کوششیں ناکام۔ضمانت پر رہا نہیں ہوئے بڑی ہو کے آگئے گھر میں۔تو خدا تعالیٰ جو ہر قسم کی طاقتیں رکھنے والا ہے جو تد بیر اس نے بتائی ہے جو جائز طریقہ ہے کام کا اس سے نہیں روکتا وہ لیکن خدا کو چھوڑ کر نا جائز طریقوں کی طرف رجوع کرنا یہ شرک ہے۔ایمان باللہ بھی ہے اور مشرک بھی ہے۔قرآن کریم نے اعلان کیا ہے وَمَا يُؤْ مِنْ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ