خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 798
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۹۸ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۰ ١٩٨٠ء اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ذریعہ سے اللہ کے رستہ میں جہاد کرتے ہیں۔یہی لوگ اپنے دعوی ایمان میں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں سچے ہیں اُولبِكَ هُمُ الصّدِقُونَ۔یہاں بچے اور حقیقی مومنوں کی دو بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں۔ایک علامت تو یہ ہے کہ ثُمَّ لَم يَرْتَابُو اسی شک اور شبہ میں نہیں رہتے۔کس چیز کے متعلق شک اور شبہ؟ اللہ تعالیٰ نے جو یہ عظیم کتاب اتاری ایک عظیم رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر ، تو اس میں اصولی طور پر ہمیں دو چیزیں نظر آتی ہیں۔ایک بیان ہے اللہ اور اس کی صفات کے متعلق اور ایک بیان ہے انسان کے نفس اور انسان کی جو روحانی ترقیات کے لئے ضروری چیزیں تھیں یا ضروری اشیاء تھے یا ضروری اعمال تھے ان کے متعلق ، جن وقتوں پہ وہ اعمالِ صالحہ بن جاتے ہیں ان کے متعلق بڑی تفصیل سے بیان کیا اسے اور اس کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ اگر اعمالِ صالحہ بجالا و گے اور تمہارے اعمال مقبول ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں تمہارے لئے روحانی جنتوں کا انتظام کرے گا اور تم خوف و خطر سے آزاد ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے لئے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ گے۔اللہ پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی شکوک اور شبہات ہو جاتے ہیں۔مثلاً اس کو قادر مطلق بھی سمجھنا اور اس کے علاوہ کسی اور کو اپنی تکلیفوں کو دور کرنے کا یا اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی بنانا۔اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا وَ مَا يُؤْمِنْ اَكْثَرُهُم بِاللهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ (يوسف : ۱۰۷) ایمان بھی ہے اور شرک بھی ہے ایک ہی ساتھ۔شک میں پڑ گئے نا کہ محض تو کل کافی نہیں ، تو کل باللہ کافی نہیں قبر پہ بھی سجدہ کر لینا چاہیے ، ناجائز پیسے دے کر بھی اپنا کام بنوالینا چاہیے، جھوٹ بول کر اپنی حفاظت کا ذریعہ ڈھونڈنا چاہیے وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کے شرک بیچ میں آجاتے ہیں۔شرک اس وجہ سے آتا ہے کہ تو گل نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ پر پورا۔شبہ ہوتا ہے پتا نہیں خدا ہمیں ہمارے حق دلوا بھی سکتا ہے یا نہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا ایک دفعہ ایک دوست نے لکھا کہ ایک شخص پر قتل کا ، قتل ہوا تھا کوئی، قاتلوں کے نام بھی بیچ میں آئے کوئی معصوموں کے نام بھی آجاتے ہیں ، غلط فہمیاں بھی ہو جاتی ہیں پیدا۔کہ میرا عزیز جو ہے وہ بالکل بے گناہ ہے لیکن قتل کے مقدمے میں