خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 779
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۷۹ خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۰ء مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے نعماء تو بہت مل گئیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے پاؤں میں لغزش آئے اور شیطان کا شیطانی حربہ مجھ پر کامیاب ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی محبت میرے دل میں ٹھنڈی پڑ جائے اور شیطان کی آگ میرے سینہ میں بھڑکنے لگے اور انصاف اور عدل کی بجائے ظلم اور بے انصافی کی میری پالیسی بن جائے اور دوسروں سے اسی اصول پر میر اسلوک ہو جائے اور میں کہیں خدا کی نگاہ سے اگر کے ساری نعمتوں سے جو ہدایت کے بعد انسان کو ملتی ہیں محروم ہو جاؤں۔ہر جگہ آپ دیکھیں اتار چڑھاؤ آیا ہے اسلام کے خطے خطے میں کبھی گرے، کبھی بڑھے۔سپین میں ایک دفعہ پہلے بھی یہی ہوا قریباً اس سات سوسال میں مسلمان کی حکومت کی قریباً ساڑھے تین سوسال کے بعد وہی حالت ہو گئی تھی جو یہ آخری حالت ہمیں نظر آتی ہے۔اس وقت وہاں کچھ ایسے دل تھے جن میں خدا تعالیٰ کی محبت بھڑک رہی تھی محبت کی آگ۔وہ پہنچے مغربی افریقہ میں اور یوسف بن تاشفین وہاں کے بادشاہ تھے بڑے متقی ، پرہیز گار، بڑے سمجھ دار ، انصاف پسند معاشرہ جو اسلام قائم کرنا چاہتا تھا وہ کرنے والے۔ان کو کہا ہم مر رہے ہیں ہماری مدد کو آؤ۔انہوں نے سارے حالات سنے۔انہوں نے کہا دیکھو کچھ مسائل میرے ملک میں ہیں جب تک میں ان سے نپٹ نہ لوں میں وہاں نہیں آسکتا۔دوسرے یہ کہ مجھے تمہارے ملک یا اس کے کسی خطہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یعنی میں فتح کرنا نہیں چاہتا تمہارے ملک کو۔خدا نے بڑا دیا میں اسی کو خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق سنبھال سکوں تو بڑا خوش قسمت ہوں گا۔واپس ان کو کر دیا۔پھر پانچ دس سال کے بعد دوبارہ آئے۔انہوں نے کہا اب تو حد ہو گئی اگر فوری آپ نہ پہنچے تو سپین کا ملک اسلام کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔اس وقت تک وہ فارغ ہو چکے تھے اپنی مہم سے۔تب وہ خود گئے تھوڑی سی فوج لے کے اس وقت حملہ آور ہو رہی تھی عیسائی فوج ختم کرنا چاہتی تھی اسلام کو لیکن خدا تعالیٰ کے اس بندہ نے ایک دن کی لڑائی میں عیسائی فوج کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک بالکل تباہ و برباد کر دیا اور ایسی جگہ وہ ( لڑتے لڑتے ) ان کو پہنچا دیا جہاں ان کے سامنے دریا تھا اور پہاڑ بڑا اونچا تھا اور نیچے اترنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔گر سکتے تھے اتر نہیں سکتے تھے اور ان کی پیٹھ کے پیچھے مسلمانوں کی یہ آواز گونج رہی تھی اللہ اکبر۔اس وقت وہ