خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 60
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۰ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء معرفت نہ ہوصفات باری کا تو آپ ان صفات کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتے ، اطاعت نہیں کر سکتے اپنے اخلاق پر اُن کا رنگ نہیں چڑھا سکتے۔تو جب ہم کہتے ہیں مظہر اتم ہیں تو ہمارے سامنے یہ حقیقت آتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی ایک انسان ہیں عظیم انسان کہ جنہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کی کامل معرفت حاصل تھی اور اس کامل معرفت کی وجہ سے آپ کے تمام اعمال جو تھے، وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کے نیچے آجاتے تھے کیونکہ سب اعمال صالحہ کا محرک معرفتِ صفاتِ باری ہے یہ ایک بنیادی حقیقت ہے جسے بھولنا نہیں چاہیے کہ جو معرفت ہے، وہی اعمال صالحہ کا محرک ہوتی ہے چونکہ آپ تمام صفات باری کی معرفت رکھتے تھے اس واسطے ہر قسم کے اعمال صالحہ خدا کی رضا کے لئے بجالانے کا موقع بھی تھا اور آپ بجالاتے بھی تھے اور ابتدا اس کی خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت سے ہے یعنی انسان اپنے زور سے ایسا نہیں کر سکتا اور چونکہ آپ صفات باری کے مظہر اتم تھے اس لئے قرآن کریم نے ایک جگہ یہ فرمایا ہے:۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ (الزمر : ۵۴) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ قُلْ يُعِبَادَ اللہ کہ اے اللہ کے بندو، بلکہ خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ یہ اعلان کر ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ اے میرے غلامو۔کہہ دے اے میرے غلامو اور یہ اس لئے کہا گیا جیسے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تفسیر میں ہمیں بتایا ہے کہ یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت ہر انسان کو دیوے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور اور آپ کی بعثت کے ساتھ خدا تعالیٰ نے یہ آیت قرآن کریم میں نازل کر کے ہر انسان کو بشارت دی بے شمار بشارتیں دی ہیں۔دراصل یہاں بے انتہا رحمتوں کی یہ بشارت دی ہے اور شکستہ دلوں کو تسکین بخشنے کے سامان پیدا کئے ہیں اور اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ دیکھو جو میرے ہو جاتے ہیں میری رحمتیں کس قدر ان پر نازل ہوتی ہیں۔محمد کو دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم۔جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لحظہ میری اطاعت میں خرچ کیا تو میں نے اس طرح اُن کو نوازا کہ وہ میری صفات کے مظہر بن گئے مظہر اتم بن گئے اور تمہارے لئے ایک نمونہ بن گئے قُلْ يُعِبَادِی میں یہ حکمت تھی کہ یہ اعلان کیا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں نوع انسانی