خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 715 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 715

خطبات ناصر جلد هشتم ۷۱۵ خطبه جمعه ۸ راگست ۱۹۸۰ء کرنے کا ہے مجھ سے درخواست یہ کی گئی کہ میں اس کی تائید کر دوں۔میرے سامنے دو راستے تھے ایک یہ کہ میں اس منصو بہ کو اپنانے سے انکار کر دوں۔دوسرا یہ کہ میں اس منصو بہ کو اپنا کر اعلان کر دوں کہ ہم انگلستان میں پانچ نئے مرکز قائم کریں گے۔میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے منصوبہ کا اعلان کر دیا۔دو سال نہیں گزرے کہ بریڈ فورڈ ، ہڈرزفیلڈ، مانچسٹر، برمنگھم اور ساؤتھ ہال میں پانچ مراکز قائم کرنے کے لئے مکان اور بال وغیرہ خرید لئے گئے ہیں جس کام کے کرنے کا سوچے سمجھے ارادہ اور پلان کے بغیر اعلان کیا گیا تھا خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں اتنی برکت ڈالی کہ وہ کام ہو گیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت کا دوسرا بڑا نشان اوسلو میں دکھایا ہے۔اوسلو میں ہماری کوئی مسجد اور مشن ہاؤس نہیں تھا۔دو سال پہلے مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک علاقہ کے میئر نے ہمیں مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے زمین دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ مکر گئے ہیں۔میں نے کہا کہ جب میں اوسلو آؤں تو مجھے ان سے ملوانا۔چنانچہ دو سال قبل جب میں وہاں گیا۔وہ میئر تو چھٹی پر تھے۔البتہ پرانے شہر کے میئر سے ملاقات ہوئی۔وہ زمین تو ہمیں نہ ملی لیکن دو سال بعد خدا تعالیٰ نے ہمیں شہر کے بہت اچھے علاقے میں ایک بہت بڑی عمارت خرید نے کی توفیق عطا کر دی۔صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کی کافی رقم پاکستان میں بھی جمع ہو چکی ہے لیکن فارن ایکس چینج کی دقتوں کی وجہ سے وہاں سے رقم نہیں آسکتی۔اس لئے اس عمارت کے خریدنے کا سارا بار بیرونی ملکوں کی جماعتوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ڈیڑھ ملین کرونے میں عمارت خریدی گئی ہے بہت بڑی اور بہت خوبصورت عمارت ہے میں اب پھر اسی میئر سے ملا تھا وہ کہنے لگے دوسرے مسلمانوں کے مطالبہ پر ہم نے ان کے لئے زمین تو مختص کر دی ہے لیکن ان کے پاس رقم نہیں ہے انہیں امید تھی کہ بعض مالدار ملک انہیں رقم دے دیں گے اب وہ رقم جمع کر رہے ہیں۔پھر کہنے لگے آپ کو تو مسجد کے لئے بڑی اچھی جگہ شاندار عمارت مل گئی ہے۔میں نے کہا ہم تو غریب جماعت ہیں ہمیں صرف ضرورت کے مطابق جگہ چاہیے تھی سو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے دی۔کہنے لگے کتنے میں خریدی