خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 714 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 714

خطبات ناصر جلد هشتم トラマ خطبه جمعه ۸ راگست ۱۹۸۰ء فی الوقت دعاؤں میں وقت گزاریں اور خاص طور پر یہ دعا بھی کریں کہ انسان خود اپنی ہلاکت کے جو سامان کر رہا ہے اس سے بچنے کی راہیں خدا اسے سکھائے۔حضور نے مزید فرمایا کہ افریقہ سے واپس آکر میں انشاء اللہ تین دن لندن میں ٹھہر ونگا اور امریکہ سے واپس آکر پندرہ میں روز یہاں ٹھہرنے کا ارادہ ہے۔اس وقت میں آپ کا مہمان نہیں ہوں گا بلکہ آپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر کے مہمان ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جاری کردہ لنگر میں جو بے انداز برکت ڈالی ہے اس کے ایک درخشندہ ثبوت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے ہر سال جلسہ سالانہ پر اس لنگر سے مستفیض ہونے والے مہمانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ گزشتہ سال جلسہ سالانہ پر ربوہ کی آبادی سمیت مہمانوں کی تعداد ہمارے اندازہ کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔اتنے لوگوں کو وقت پر کھانا کھلا دینا خودا اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے۔لندن کی ایک بوڑھی عورت جلسہ پر ربوہ آئی جب اس نے لنگر خانہ دیکھا اور مہمانوں کو وقت پر کھانا مہیا کئے جانے کے انتظامات کا مشاہدہ کیا تو وہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی کہ اگر میں واپس جا کر یہ بتاؤں کہ کس طرح تھوڑے سے وقت میں اتنے بڑے اجتماع کو تازہ پکا یا ہوا کھانا مہیا کیا جاتا ہے تو میرے رشتہ دار یقین نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ وہاں سے پاگل ہو کر آئی ہے۔حضور نے فرمایا یہ تو اللہ تعالی کے بے شمار فضلوں میں سے ایک فضل کا ذکر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنے فضل نازل ہو رہے ہیں ہم پر کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ فضل کر کر کے دراصل یہ کہ رہا ہے کہ تم میرے شکر گزار بنو ناشکرے نہ بنو۔ہم پر واجب ہے کہ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں کبھی سست نہ ہوں اور ہمیشہ اس کا شکر ادا کرتے رہیں۔اس ضمن میں حضور نے غیر معمولی نوعیت کے اللہ تعالیٰ کے بعض نئے اور تازہ فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے نمایاں فضلوں میں سے ایک فضل آپ ( مراد جماعت احمدیہ انگلستان) سے تعلق رکھتا ہے۔۱۹۷۸ء میں لندن کا نفرنس کے بعد مجھ سے کہا یہ گیا کہ صحافیوں کو یہ غلط بر یفنگ کر دی گئی ہے کہ خلیفہ المسیح کا ارادہ انگلستان میں تبلیغ اسلام کے پانچ نئے مراکز قائم