خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 693 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 693

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۹۳ خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۰ء وہی اس کی انجام دہی کے سامان کر رہا ہے۔ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ پر کامل تو گل رکھے اور اسے ہی اپنا کارساز سمجھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کامل تو گل کے معنی بتائے ال ہیں کہ خدا کے سوا ہر کسی کو لاشی محض سمجھو۔اور اس بات پر کامل یقین رکھو کہ جو کچھ کرے گا خدا ہی کرے گا۔وہی تمہاری حقیر کوششوں میں برکت ڈالے گا اور ان کے اعلی سے اعلی نتائج پیدا کر دکھائے گا۔بعدۂ حضور نے اسی تعلق میں تعلیمی ترقی کے عظیم منصوبہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ صد سالہ احمد یہ جوبلی کے منصوبہ نے سرمایہ مہیا کرنا تھا اور پھر اس مالی جہاد کے نتیجہ میں اشاعت اسلام کے عملی جہاد نے مختلف شکلیں اختیار کرنا تھیں سو اس عملی جہاد کی ایک شکل تعلیمی اور علمی ترقی کا وہ عظیم منصوبہ ہے جو غلبہ اسلام کے مقصد میں کامیابی کی غرض سے جاری کیا گیا ہے۔حضور نے اس عظیم منصوبہ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے بعد بتایا۔کہ منہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے جلوؤں کو جو کائنات ارضی و سماوی میں ہر آن ظاہر ہورہے ہیں آیات قرار دے کر اور ان پر غور کرنے والوں کو اولوا الالباب قرار دے کر دنیوی علوم کو روحانی علوم کی طرح ہی اہم قرار دیا ہے اور ان دونوں علوم کو ایک دوسرے کا مد و معاون ٹھہرایا ہے۔اس منصوبہ کی اہمیت یہ ہے کہ افراد جماعت کو دنیوی علوم سے درجہ بدرجہ آراستہ کر کے ان میں قرآنی علوم و معارف سے بہرور ہونے کی اہلیت پیدا کی جائے کیونکہ یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ ایک ان پڑھ کے مقابلہ میں ایک میٹرک پاس نو جوان قرآن کو سمجھنے اور اس کے علوم و معارف سے استفادہ کرنے کی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اسی طرح درجہ بدرجہ ایف اے، ایف ایس سی، بی اے، بی ایس سی ، اور ایم اے، ایم ایس سی پاس میں قرآن کو سمجھنے اور اس کے انوار سے منور ہونے کی اہمیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔سو اس منصوبہ کا اصل اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر احمدی اپنی اپنی استعداد کے مطابق د نیوی علوم میں دسترس حاصل کرے تا کہ وہ قرآنی علوم اور معارف سے بہرہ ور ہو سکے اور