خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 674
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۷۴ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۰ء اور اپنے رب کی رضا کی جنتوں کو حاصل کیا آپ نے ، آپ ہی کے نقش قدم پر وہ بھی ، ہم بھی چلنے والے ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں حاصل ہو۔اس غرض کے لئے ہی میں نے تعلیمی منصوبہ ، جماعت کے سامنے پیش کیا ہے۔قرآن کریم کو سمجھنا اور سیکھنا ضروری ہے کیونکہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف روحانی باتیں ہی قرآن کریم میں ہیں اور وہاں سے حاصل کی جاسکتی ہیں یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ مادی زندگی اور روحانی زندگی دونوں اس قدر جدا گانہ ہیں اور اس قدر بعد ہے ان میں کہ ایک کو سیکھنے کے لئے دوسرے کو جاننا ضروری نہیں۔قرآن کریم نے شروع سے آخر تک آیات کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ آیت کی جمع ہے۔اس لفظ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کے لئے بھی اور دیگر انبیاء کے معجزات کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور قرآن کریم کی ہر عظمت والی تعلیم کے متعلق بھی اسے استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ ہر آدمی کے منہ پر اکثر آتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات ہیں، اس سورۃ کی اتنی آیات ہیں یا فلاں سورۃ کی فلاں آیت میں یہ لکھا ہے۔اسی طرح اس مادی دنیا کی ہر تبدیلی کا نام قرآن کریم نے آیت ہی رکھا ہے جیسا کہ فرمایا:۔إِنَّ فِي خَلْقِ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت (ال عمران : ۱۹۱) یہ جو دن اور رات کا تعلق اور سورج اور زمین کے زاویے ، ان کا بعد اور ان کی حرکتیں، اِخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ یہ ساری چیز میں آیات ہیں۔یہ علم جو ہے دینی علم نہیں محض دنیوی علم بھی نہیں۔یہ دنیوی علم ہے۔روحانیت کی بنیاد اس کے اوپر ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی شان اور اس کا جلال ، ان علوم کے حصول کے بعد ایک خوش قسمت انسان کو اس سے زیادہ حاصل ہوسکتا ہے جتنا ایک د ہر یہ کو حاصل ہونا ممکن ہے۔تو میں نے کہا قرآن پڑھیں، تفسیر صغیر اپنے پاس رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تفسیر کی ہے۔وہ اور جو دوسری تفاسیر ہیں قرآن کریم کی مستند ، وہ اپنے پاس رکھیں پڑھیں ، پڑھا ئیں بچوں کو، بچوں کو ان کے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔وہ جو ہماری منتظمہ ہے اس کو بہت دفعہ جھنجھوڑنا پڑتا ہے۔تب وہ ٹھیک کام کرتی رہتی ہے ورنہ پھر ست ہو جاتی ہیں۔پھر قرآن کریم کو