خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 673
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۷۳ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۰ء شور مچا یا۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب اس کے پاس گئے ، آدمی بھیجاڈا کٹر کو بلانے کے لئے اور خود کاغذ کی ایک گولی بنائی۔پانی منگوایا اور کہا منہ کھول، گولی کو اپنے ہاتھ سے اُس کے گلے میں رکھ کر پانی پلا دیا تا کہ اسے یہ احساس نہ ہو کہ میں کاغذ کھا رہا ہوں اور اس کو آرام آگیا۔قبل اس کے کہ ڈاکٹر پہنچتا اس کی درد دور ہو چکی تھی۔تو یہ دعا ہے جس میں پردہ مادی چیز کا بھی ہوتا ہے ممکن ہے اس کاغذ کے اجزاء میں خدا تعالیٰ نے شفا بھی رکھی ہو بیماری کی۔بہر حال اس وقت ایک تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوست کثرت سے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ شفا دے اور مقبول خدمت کی توفیق دے مجھے بھی اور آپ کو بھی۔دوسرے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا ارادہ اس سال دورے پر بیرون پاکستان جانے کا ہے۔دعا کریں کہ یہ دورہ اس معنی میں کامیاب ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جواز سر نو یہ بتایا گیا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ہر قسم کی بھلائی، خیر اور خوشحالی کا سامان قرآن کریم میں ہے۔اسی سے حاصل کرنا چاہیے۔سو جب ہم باہر جائیں تو دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں اور کم از کم ایک حصہ کو تو یہ تحریک ہو جائے کہ ادھر اُدھر کی کوششوں اور تدبیروں کی بجائے وہ قرآن کریم کی طرف رجوع کرے، وہ دنیا جو آج قرآن کریم کی عظمت کو پہچانتی نہیں اور دنیا والے اپنے جن مسائل کا حل اپنی تدبیر سے کر نہیں سکے اسے وہ قرآن کریم سے حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کریں۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ہر قسم کی برکت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کو حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم ایک تعلیم ہے۔اس کے سمجھنے میں انسان صحیح قدم بھی اٹھاتا ہے اور غلطی بھی کرتا ہے لیکن جو صحیح سمجھا ، جس نے غلطی نہیں کی ، جس کے لئے غلطی کرنے کا امکان ہی نہیں تھا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جس طرح انہوں نے سمجھا قرآن کو ان کے اُسوہ پر چلنے کی بنی نوع انسان کو تو فیق عطا ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔اس کے لئے علم ضروری ہے یعنی ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پڑھیں ، ان کے دل میں محبت اور پیار پیدا ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور تیسرے ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے دل میں ایک تڑپ، ایک جوش، ایک جنون پیدا ہو کہ جن راہوں پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے