خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 662
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۶۲ خطبه جمعه ۲۵ اپریل ۱۹۸۰ء سے بھی بنیاد سمجھتا ہوں۔اس کے بعد اس بنیاد کے اوپر ہم نے جو عمارت کھڑی کی اس دنیوی زندگی میں وہ یہ کہ میں نے اعلان کیا کوئی بچہ اس اعلان کے بعد میٹرک سے پہلے تعلیم نہیں چھوڑے گا۔ہر بچہ جو سکول گوئنگ ایج (School Going Age) کا ہے جو اپنی عمر کے لحاظ سے سکول میں پڑھ رہا ہے یا پڑھنے کے قابل ہے وہ جب تک میٹرک نہ کر لے وہ سکول کو نہیں چھوڑے گا سوائے بعض استثی کے۔بعض استثنی ہم سمجھتے ہیں لیکن استثنیٰ کے متعلق انسان باتیں نہیں کیا کرتا اصول کے متعلق اور قاعدہ کے متعلق بات کیا کرتا ہے۔تو اس اعلان کے بعد کوئی بچہ میٹرک سے پہلے تعلیم نہیں چھوڑے گا۔دوسرے میں نے یہ اعلان کیا کہ اس سال سالِ رواں جو ہے ۸۰ء اس میں ہر بچہ کنڈرگارٹن (Kindergarten) سے لے کے پی ایچ ڈی کے امتحان تک جو امتحان پاس کرے وہ مجھے خط لکھے۔اس میں میری یہ خواہش ہے کہ میں ہر بچے کے لئے دعا کروں جو امتحان پاس کرتا ہے۔آپ مجھ سے تعاون کریں میری اس خواہش کو پورا کریں۔جب میرے پاس خط آئے گا تبھی میں اس کے لئے دعا کروں گا۔جماعت کے لئے یہ برکت کا سامان ہے کہ ہم تدوین کرلیں گے پڑھنے والوں کی یعنی ہماری فہرستیں مکمل ہو جائیں گی۔ایسے بچے بھی ہیں، یہاں اسلام آباد میں بھی ہیں کہ جن کو نظام جماعت اسلام آباد بھی نہیں جانتا۔وہ مجھے خط لکھیں گے ہمیں پتا لگ جائے گا۔ان میں سے کئی ذہین ہوں گے جن کو ہم نے بعد میں سنبھالنا ہے۔اگر اس وقت آپ کو علم ہی نہیں ہوگا اور ہم ان کو پکڑ کے آگے ہی نہیں لے کے جائیں گے یعنی بچپن میں انگلی پکڑ کے تو ترقی کیسے کریں گے۔جو دفتر ابھی بنا نہیں میرے ذہن میں ہے کام شروع ہو گیا ہے۔ہر بچہ انڈیکس کارڈ (Index card) پر آ جائے گا جس طرح لائبریریوں میں کتا میں ہوتی ہیں اس طرح آجائے گا۔اس کو ڈھونڈ نا بڑا آسان Alphabetic Order میں۔پہلے ( میں 6699 وو آجائے گا اسلام آباد شہر کے لحاظ سے۔راولپنڈی میں آجائے گا شہر کے لحاظ سے پھر ہر۔اسلام آباد جو ہے اس کے اندر پہلے حرف کے لحاظ سے ان کی ترتیب ہوگی اور وہ Cabinet کے اندر جو اس کام کے لئے ہوتی ہے اس کے اندر ہوں گے مثلاً کنڈرگارٹن میں جو بچہ ہے میں نے