خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 51

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۱ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۷۹ء آئندہ نہیں کروں گا میں نے کہا نہیں بس ایک دفعہ ہو گیا۔تو سڑکوں پر کھانے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے پسند نہیں فرمایا۔یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے سڑکوں پر کھانا، گھروں میں کھاؤ ، آرام سے کھاؤ تحمل سے کھاؤ، کھانا بھی زیادہ ہضم ہوتا ہے۔جو گندی عادت دنیا نے اپنی نالائقیوں کی وجہ سے بنالی ان کی نقل ضرور کرنی ہے؟ جن کی نقل کرنی چاہیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اُسوہ کو بھول جانا ہے ہم نے؟ تو یہ بچوں کا حق ہے، بچوں کا یہ حق ہے کہ ہم انہیں اسلامی آداب سکھائیں تا کہ ان کے ذہنوں کو بھی ، یہ اور مضمون ہے لمبا ہے اشارہ کر سکتا ہوں کہ ذہنوں کی جلا کا بڑی حد تک انحصارا چھے اخلاق پر ہے اگر اخلاق کی حاکمیت ذہانت پر ہو گی تو ذہانت میں چلا پیدا ہو گی اور اگر روحانیت کی حاکمیت اخلاق پر ہوگی تو صحیح اخلاق ہوں گے۔روحانی باتیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت۔پہلا بچہ جو سات سال کا ہے اس کو تو حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کی ایک نظم ہے وہ اس کے بعض بند ایسے ہیں کہ ان کو سکھا دینی چاہیے یعنی پہلا سبق ان کو یہ دینا چاہیے۔ہوں اللہ کا بندہ محمد کی امت ہے احمد سے بیعت خلیفہ کی طاعت میرا نام پوچھو تو میں احمدی ہوں یعنی اس بچے کو کہنا چاہیے کہ تم احمدی ہو پتہ ہے احمدی کسے کہتے ہیں؟ کہ جو اللہ کا بندہ ہو اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی صفات کے غیر محدود جلوے تو ساری دُنیا کے انسان بھی نہیں سمجھ سکتے۔وہ تو بڑی وسیع چیز ہے لیکن پہلے سبق میں اس کو یہ کہنا چاہیے کہ ہر احمدی طفل اللہ کا بندہ ہے شرک نہیں کرے گا۔بنیادی بات اس کو ، حضرت لقمان نے بھی اپنے بیٹے کو لا تُشْرِكْ بِاللہ پہلے سبق دیا تھا نا۔قَالَ لقَمَنُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يُبْنَى لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ۔(لقمن : ۱۴) دوسری بات۔پہلا سبق بچے کو ساتویں سال عمر کے محمد کی امت کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت