خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 647 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 647

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۴۷ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء سی میں فرسٹ ڈویژن لی۔بعض ذہن آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی تو ہر صفت کا جلوہ ہرانسان پر مختلف ہے اور بعض ایسے بھی ہیں کہ انٹر میڈیٹ تک آکے ان کا ذہن ختم ہو جاتا ہے۔ویسے شروع میں بڑے ہوشیار ہوتے ہیں وہ۔گورنمنٹ کالج میں ایک لڑکا پڑھا کرتا تھا بڑا متعصب ، ہمارے ساتھ ہی داخل ہوا۔آوازے کسا کرتا تھا اور وظیفہ لے کے آیا میٹرک میں۔مگر ایف ایس سی میں فیل ہو گیا۔اس لئے نہیں کہ اس نے پڑھا نہیں۔پڑھتا تھا بڑا۔مگر اس کا دماغ اتنا ہی تھا۔اس واسطے شروع سے آخر تک ہم نے جائزہ لینا ہے تاکہ کوئی ذہن بھی ضائع نہ جائے۔یہ جو کمیٹی بنی ہے اس کو میں پھر توجہ دلا دوں۔یہ انعامی وظائف نہیں۔ادائے حقوق کے وظائف ہیں۔پھر مجھے خیال آیا کہ ایک لڑکا امیر ہے اگر وہ ذہین ہے تو اس کی بھی قدر ہونی چاہیے۔یہ تو نہیں کہ ہم کہیں کہ چونکہ تیرے پاس دولت ہے اس واسطے تیرے علم کی ہم قدر نہیں کرتے۔یہ بھی غلط ہے وظیفہ کی اس کو ضرورت نہیں اس لئے ہم اس کو وظیفہ نہیں دیں گے لیکن اس کے ذہن کی نوع انسانی کو ضرورت ہے اس کی اپر یسیشن (Appreciation ) ہونی چاہیے۔اس کی قدر ہونی چاہیے۔اس لئے ( آج میں زائد کر رہا ہوں اس وقت ایک چیز ) ہر وہ لڑکا جو امیر ہے اور مستحق نہیں ہے ادائے حقوق کے وظائف کا اگر وہ فرسٹ سیکنڈ یا تھرڈ آتا ہے بورڈ میں یا یو نیورسٹی میں تو اس کو یا ان سب کو خدا کرے وہ سینکڑوں ہوں۔جماعت کی طرف سے تمغے دیئے جائیں گے۔صد سالہ جو بلی کے نام پر اور چاہے یہ بچے دنیا کے کسی ملک میں رہنے والے ہوں۔اگر وہ اپنے ریجن میں اپنے انتظام تعلیم میں فرسٹ آئیں یا سیکنڈ آئیں یا تھر ڈ آئیں تو تین قسم کے تمغے ان کو دیئے جائیں گے۔یہ بتانے کے لئے انہیں اور ان کے خاندان کو کہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک نعمت عظمی قابلیت اور ذہن دیا جماعت اور انسانیت کا ایک حصہ اس کی قدر کرتا ہے اور جماعت ان کے لئے دعائیں کرے گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے کہ وہ دولت پر نہ گریں بلکہ علم