خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 635
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۳۵ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء پڑے گی مثلاً سورہ فاتحہ جو ہے وہ ذرا دقیق ہے وہ پانچویں جماعت کا بچہ نہیں سمجھ سکتا۔تو دیکھوں گا میں کہ کوئی ایسی تفسیر بھی ہو جس کے کچھ حصے میں سمجھوں کہ مضمون کے لحاظ سے ایسے ہیں جو پانچویں جماعت کے بچے کے ہاتھ میں دے دوں دو چار سال کے بعد چاہے پڑھ لے) میں اپنے دستخطوں کے ساتھ وہ تفسیر بجھوا دوں گا اگر وہ نمبروں کے لحاظ سے اوپر کے Top کے تین سو میں آ گیا ہے اور اسی طرح آٹھویں جماعت میں پھر محکمہ تعلیم کا امتحان ہے اور وہ وظیفے کا بھی امتحان لیتے ہیں لیکن وظیفہ تو اتنے کو دیتے ہیں یا نہیں دیتے بہر حال اس وظیفہ کے امتحان میں پہلے تین سو جو Top کے ہیں یعنی آٹھویں کے امتحان میں جو گورنمنٹ لے رہی ہے ( سکول کا امتحان نہیں اس میں۔یعنی جو اپنا سکول امتحان لیتا ہے وہ تو کوئی کسی قسم کا سکول ہے کوئی کسی قسم کا سکول ہے ) اس کے نتیجہ میں فہرست میں سب سے اوپر جو تین سو طالب علم ہیں ان تین سو میں جتنے بھی احمدی بچے ہیں ان کو انشاء اللہ میں کتاب دوں گا۔دسویں جماعت میں بورڈ کا امتحان ہے جہاں جہاں بھی اس ایریا میں بورڈ ہیں چوٹی کے دو سود ماغ جو ہیں ان میں جتنے بھی احمدی ہیں ان کے ذہن کے مطابق یہی جو ہیں پانچ کتب تفسیران میں سے ایک پر اپنے دستخط کر کے اور پیار کا خط لکھ کے ان کو دوں گا۔اور انٹر میڈیٹ جو ہے اس کے بھی ٹاپ کے تین سولر کے ہر بورڈ کے اور گریجوایشن (Graduation) بی۔اے، بی۔ایس سی جو ہے اس کے بھی ٹاپ کے دوسو جو ہیں یعنی نتیجہ کی فہرست میں سب سے اوپر نمبر لینے والے دوسو میں سے جتنے احمدی لڑکے آتے ہیں وہ مجھے خط لکھیں گے اور یہ بھی لکھیں گے کہ ہماری پوزیشن مثلاً ۱۰۱ ہے،۱۱۰ ہے ( یعنی دوسو کے اندراندر جو بھی پوزیشن ہے ) ان کو بھی ایسا ہی انعام ملے گا۔جوایم۔اے، ایم۔ایس سی یا یہ ہمارے جو ڈاکٹر بنتے ہیں فزیشن، سرجن یا انجینئر وغیرہ اور اس ٹاپ کے امتحانات وہ ایم۔اے، ایم۔ایس سی کے مقابلے میں ہی ہیں۔ہر مضمون میں علیحدہ علیحدہ کلاسیں بن گئی نا۔ہر مضمون کے ٹاپ کے جو سات ہیں یو نیورسٹی میں ان میں سے جتنے احمدی ہیں ان کو پانچ کا سیٹ یا تفسیر صغیر یا جو انگریزی ترجمہ ہے وہ تحفہ ہم دیں گے لکھ کے کہ