خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page vi
IV حالات جو ذمہ داریاں ہمارے بچوں کے کندھوں پر ، وہ بچے جو آج سات سال کے ہیں ڈالیں گے ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی اہلیت اور طاقت اور استعداد اور صلاحیت تو ان کے اندر ہونی چاہیے۔جماعت، خاندان، انصار ، خدام الاحمدیہ، اطفال کے نظام کے عہد یدار، مائیں، بڑی بہنیں، ہر وہ شخص جس کا کسی نہ کسی پہلو سے ایک بچے سے تعلق ہے اور وہ احمدی ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذہن میں رکھے کہ اس بچے کو ہم نے خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کرنا ہے اور ضائع نہیں ہونے دینا۔“ ۲۔۱۶ مارچ ۱۹۷۹ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے جماعت کو ان الفاظ میں نصیحت فرمائی:۔ایک تو دعا کرنی ہے ہم نے کہ اے خدا! پاکستان کو اتنا کھانے کو دے دے کہ ہماری ساری کی ساری ضرورتیں پوری ہو جائیں اور ہمیں دنیا کے سامنے بھیک مانگنے کے لئے اپنا ہاتھ نہ پھیلا نا پڑے اور دوسرے یہ کہ اگر یہ آزمائش ہے تو وہ لوگ جو اسلامی تعلیم سامنے رکھ کر اپنے بھائیوں کی محبت اپنے دل میں پاتے ہوئے رات کو چین سے سو نہ سکیں جب تک ان کو یہ تسلی نہ ہو کہ ہمارے گاؤں میں، ہمارے شہر میں، ہمارے محلہ میں، ہمارے ہمسائے میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جو بھوکا سورہا ہے“ ۳ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ ء کے خطبہ جمعہ میں ایک پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔”فرینکفرٹ میں میں نے پریس کانفرنس والوں کو یہ کہا کہ آئندہ سو، ایک سو دس سال میں ساری دنیا میں اسلام غالب آ جائے گا۔حیران ہو کر دیکھا انہوں نے مجھے کہ یہ شخص کیا کہتا ہے؟۔پھر میں نے ان کو کہا دیکھو میں بغیر دلیل کے نہیں بات کر رہا۔میرے پاس ایسی دلیل ہے جس کو تم سمجھ جاؤ گے اور میرے پاس یہ دلیل ہے کہ نوے سال پہلے آج سے قریباً، مدعی جو تھا اس بات کا کہ اسلام غالب آئے گا اس زمانہ میں وہ اکیلا تھا۔اس کے گھر والے اسے پہچانتے نہیں تھے۔۔۔وہ اکیلا شخص پچھلے نوے سال میں دس ملین یعنی ایک کروڑ بن گیا۔تو اگر تم یہ سمجھو کہ اس ایک کروڑ کا ہر ایک اگلے ایک سو دس سال میں ایک کروڑ بن جائے تو کیا تعداد بنتی ہے؟ اس نے منہ اٹھا کے مجھے دیکھا۔کہنے لگا دنیا کی تو اتنی آبادی نہیں ہے۔میں نے اسے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اتنی تعداد میں مسلمان ہوجائیں گے۔میں تمہیں یہ کہ رہا ہوں کہ جب ایک شخص نوے سال میں کروڑ بن گیا تو اس کروڑ میں سے ہر ایک کروڑ بن سکتا ہے، غیر ممکن نہیں ہے