خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 574

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۷۴ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء جو حضرت آدم علیہ السلام کا قرآن کریم میں واقعہ ہے وہ فرشتوں کی جہالت کا نمایاں مظاہرہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں ملتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے پیارے نبی، رسول ایک چھوٹی سی جماعت تھی اس وقت انسانوں کی ان کی طرف بھیجے گئے تھے۔عام ان کو تعلیم دی گئی تھی۔ایک چھوٹا سا حصہ قرآن کریم کا ان کو ملا تھا لیکن انسانوں کو جو ملنے والا تھاوہ تو خدا تعالیٰ کا انعام اپنے عروج کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ملا اور اتنی شان سے ملا ہے انعام۔آپ کو تو ساری عمر خدا تعالیٰ کی حمد کرتے رہیں تو آپ اس کا شکر نہیں ادا کر سکتے۔فرشتوں نے جن کا کس طرح خدا تعالیٰ نے مثال دے دی۔آپ کی انفرادی اجتماعی زندگی میں اور دعا آپ کی قبول نہ کرے تو آپ۔۔۔۔ایسی ان ہونی باتیں کر دیتا ہے۔میرا سرسجدہ میں جب زمین کے اوپر ٹکتا ہے ما تھا تو اس وقت یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں بہت جھک گیا ہوں۔اس وقت یہ احساس ہوتا ہے کہ جتنا جھکنا چاہیے خدا کے سامنے نہیں جھک سکا کیونکہ زمین اس طرف سے روک ہو گئی۔ہر ایک کا یہی خیال ہونا چاہیے۔تو یہ ابتدا ہوگئی ہے میری تقریر کی۔سوچا میں نے آج یہ کہ کچھ عرصہ غیر معینہ تک انتہائی پیار کے ساتھ آپ کی اصلاح کی کوشش کروں گا۔آپ کو آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا۔سارے تو اس اصلاح کے محتاج نہیں لیکن اس اصلاح کے محتاج ہیں کہ جہاں تک انہوں نے پیار حاصل کیا اس سے زیادہ پیار حاصل کریں اور۔۔۔پھر کچھ تھوڑی سی سختی بھی ساتھ کروں گا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام نے آج ساری دنیا۔۔۔پر غالب آنا ہے اپنی حسین تعلیم کے ذریعہ سے، پیار اور خدمت کے ذریعہ (سے) تو آپ کو اپنی زندگیوں میں انقلاب عظیم لا نا پڑے گا قبل اس کے کہ نوع انسانی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب عظیم بپا ہو۔اس کے لئے تیاری کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے سب کو تو فیق عطا کرے۔آمین از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )