خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 573
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۷۳ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء بڑے بڑے ملک ہیں (جنہوں نے ) دنیا میں ترقی کی۔یہ علاقے کسی زمانہ میں اتنے پس ماندہ تھے کہ کوئی انتہا نہیں۔اس وقت ان کی روحانی ترقیات اتنی مفلوج ہیں کہ آدمی سوچ کے بھی پریشان ہوتا ہے۔یہ خود پریشان ہیں۔میں باہر جاتا ہوں۔مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔ایسے ان میں بھی ہیں جنہوں نے یہاں تک کہا کہ پہلے انبیاء کی جو جماعتیں تھیں ، جن قوموں کی طرف ان کو بھیجا تھا۔جنہوں نے انکار کیا، ان کی بدفعلیوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا اور صفحہ ہستی سے ان کو مٹا دیا ہم پر کیوں عذاب نازل نہیں ہوتا یعنی ایک طرف اتنی زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ بھی ہیں۔دوسری طرف ان کی سوچوں میں یہ خیالات بھی آتے ہیں۔خود میں نے کانوں سے سنے ہیں۔اگر ہلاکت کو طلب کرنے والوں کی جماعتوں میں آپ میں سے کسی نے شامل ہونا ہے تو آپ کی مرضی اور اگر خدا کے پیار کو حاصل کر کے ان کی اصلاح کی توفیق پانی ہے اور خدا کے پیار کو اسی طرح حاصل کرنا ہے جس طرح خدا کے پیار کو پہلوں نے حاصل کیا تو یہ آپ کے اپنے اوپر موقوف ہے۔ہر شخص اپنی مرضی جان کا ذمہ وار ہے اور جماعت اس بات کی ذمہ دار ہے کہ جو خدا کے احکام کی طرف توجہ نہیں کرتا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو داغدار کرنے کی اپنی عملی کوششوں سے، اپنے بد اعمال سے کوشش کرتا ہے اسے جماعت سے باہر نکال دو۔دنیا میں ہر نظام کو۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو نظام لائے وہ نہیں کہا جاسکتا میں نے کوشش کی ہے۔یہ تو واضح کر دوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کوئی نظام قائم نہیں کیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کا نظام قائم کیا اور یہ اعلان کیا کہ مجھے اتنا پیار ہے اس نظام کے ساتھ کہ اگر میں اپنی ذراسی بھی مرضی بیچ میں چلاؤں اور کوئی ردو بدل کروں تو میں ڈرتا ہوں کہ مجھے عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کروا یا ائی آخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ تو آپ کو کون بچانے والا ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے ہونے کا دعویٰ کریں گے؟ یہ خیال کریں گے کہ خدا تعالیٰ سے وہ پالیں گے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم نہیں پاسکے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وہ پایا کہ جو فرشتوں کا خیال بھی وہاں تک نہیں پہنچا۔وہ