خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 551 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 551

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۵۱ خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ء کے فیصلے کو انسان جانتا ہے کہ یہ میرا حق نہیں ہے۔انسان جانتا ہے کہ یہ ٹکڑ از مین کا میرا نہیں ، جانتا ہے کہ یہ مکان میرا نہیں ، مکان کا یہ حصہ میرا نہیں ، جاتنا ہے کہ زمین کی پیداوار میری نہیں ، جانتا ہے کہ کارخانوں کے اندر جو بنتا ہے اور جو آمدنی ہوتی ہے وہ ساری کی ساری میری نہیں۔اس میں کام کرنے والوں کا بھی حق ہے۔سب کچھ جانتے ہوئے اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے جھوٹے گواہ پیش کر کے یا رشوت کے ذریعے یا کسی اثر اور رسوخ کے ذریعے حاکم وقت سے فیصلہ لیتا ہے اور اپنے نفس کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حاکم وقت کا فیصلہ تمہارے حق میں میرے اس فیصلے کو نہیں روکے گا کہ میں تمہیں جہنم میں پھینک دوں اور اپنی گرفت میں لے لوں۔یہ جو دنیا میں گند پھیلا ہوا ہے ( آپ غور کریں میں نے بہت غور کیا ) انتہائی فساد پیدا کرنے والا اور معاشرے میں بے انتہاء بے چینی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے کہ جھوٹے مقدمے کر کے جھوٹے گواہ پیش کر کے جھوٹی قسمیں کھا کے یعنی خدا تعالیٰ کو بھی اپنے حق میں گواہ کے طور پر بظاہر زبانی طور پر پیش کر دیا اور جانتا ہے شخص کہ خدا بھی جانتا ہے کہ یہ اس کا مال نہیں اور اپنے دل کی تسلی کے لئے ایسا طریق اختیار کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں حکم دیتا ہوں کہ تم حکام وقت سے اپنے حق میں جھوٹے فیصلے مت لو۔قرآن کریم ہے بڑا عظیم۔بڑی ہی عظیم کتاب ہے۔بعض دفعہ بے وقوفی سے ناسمجھی سے بھی غلط مقدمہ ایک شخص کر دیتا ہے۔اس واسطے اس چیز کو یہاں واضح کر دیا۔اگر کوئی شخص نا سمجھی سے واقعہ میں سمجھتا ہے کہ حق اس کا ہے۔غلطی میں مبتلا ہے کہ میرا حق ہے اور کورٹ میں جاتا ہے اور اس کا حق نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ وہ گروہ جو ہیں وہ میرے اس انداز کے مخاطب نہیں ہیں۔مخاطب وہ ہیں کہ مقدمہ بازی اس حقیقت کو جانتے بوجھتے ہوئے کرتے ہیں کہ دعویٰ جھوٹا ہے جو شخص نا سمجھی سے یا بے وقوفی سے یا غفلت سے کوئی جھوٹا مقدمہ کرتا اور اپنے حق میں فیصلہ لیتا ہے تو اس کی وہ سزا نہیں۔قرآن کریم کے نزدیک جو اس شخص کی ہے جو جان بوجھ کر لوگوں کے مال کو کھا تا اور حاکم وقت کی پناہ لیتا ہے۔