خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 547

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۴۷ خطبه جمعه ۱۸/جنوری ۱۹۸۰ء نسلوں پر بھی ، آئندہ آنے والی جو نسلیں ہیں ان پہ بھی ہے یہ ذمہ داری اور قیامت تک کے لئے ذمہ داری ہے کیونکہ کہا یہ گیا ہے کہ اسلام غالب رہے گا اس دنیا میں اور نوع انسانی کی بھاری اکثریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع رہے گی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے سایہ میں اس کے پیار کو حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے والی ہوگی قیامت تک اور پھر ان میں ایک بگاڑ پیدا ہوگا اور پھر ہمارے آدم کی نسل پر قیامت آجائے گی۔شاید نسلوں کا کوئی فرق ہے لیکن جو ہم نے پچھلی تاریخ پر غور کیا تو میں نسلیں کم از کم ہم نے سنبھالنی ہیں۔تین ان میں سے گزرچکیں اور ستائیس نسلیں سنبھالنی ہیں۔ہمیں اپنی فکر نہیں ، ہمیں اپنی نسلوں کی بھی فکر کرنی چاہیے۔اپنی فکر بھی کرنی چاہیے مگر صرف اپنی فکر نہیں۔اپنی نسلوں کی بھی فکر کرنی چاہیے اور خدا تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ کوئی خاص قوم، کوئی خاص فردایسا ہے جس نے اجارہ داری لی ہوئی ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کی۔خدا تعالیٰ نے تو یہ کہا کہ تم تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرو گے میرے پیار کو حاصل کر لو گے۔تقویٰ کی راہوں کو چھوڑ دو گے۔پیار کو حاصل نہیں کرو گے۔بڑے بڑے آسمانوں تک پہنچے ہوئے ہمارے بزرگ۔خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں ، اپنے اپنے دائرہ میں کمال کو پہنچے ہوئے اور ان کی نسلیں جو ہیں وہ اسلام کو چھوڑنے والی ہمیں نظر آتی ہیں۔ان میں سے ایسے افراد ساری نسل نہیں میری مراد ایسے افراد ہو گئے جنہوں نے اسلام کو چھوڑ کے دوسرے مذہب کو اختیار کر لیا۔یہ ذمہ داریاں معمولی نہیں۔یہ ذمہ داریاں غیراہم نہیں۔یہ ذمہ داریاں ایسی نہیں جن کو نظر انداز کر کے ہم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پیار حاصل کر سکیں۔ان ذمہ واریوں کو نباہنے کی کوشش کریں گے اگر آپ خلوص نیت کے ساتھ ، ایثار کے ساتھ، اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کی کوشش کے نتیجہ میں تو آپ نباہ لیں گے یہ ذمہ داریاں۔خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لیں گے۔اگر نہیں کریں گے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ تو پورا ہوگا۔خدا نے کہا اس زمانہ میں اسلام غالب آئے گا، اسلام غالب آئے گا۔کچھ اور لوگ اٹھیں گے افریقہ میں ہوں گے شاید، پھر خدا نہ کرے کہ ایسا ہو یورپ میں ہوں گے شاید عربی